رسائی کے لنکس

پھانسی غیر اسلامی طریقہ ہے، قیدی کی درخواست


فائل فوٹو

وکیل خورشید خان کا کہنا تھا کہ پھانسی کی سزا صرف تیسری دنیا کے ملکوں میں رائج ہے جب کہ امریکہ سمیت دیگر دنیا میں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مہلک انجیکشنز سمیت دیگر طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ایک ملزم کی سزا معطل کر دی ہے جب کہ ایک اور مجرم کے وکیل نے پھانسی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے سزائے موت پر کسی اور ذریعے سے عمل درآمد کرنے کی استدعا کی ہے۔

محمد اکبر نامی ملزم کو آٹھ سال قبل دو فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے اور بارودی مواد رکھنے کے الزام میں فوجی عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد ملزم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

پیر کو عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے سامنے ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالت میں سماعت کے دوران قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اسے اپنی صفائی کا موقع فراہم کیا گیا۔

بینچ نے اس پر ملزم کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے اور سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

2015ء میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے آئین میں ترمیم کر کے فوجی عدالتوں کو خصوصی اختیارات تفویض کیے گئے تھے جس کے تحت غیر فوجی ملزمان کے مقدمات بھی ان عدالتوں میں سنے جاسکتے ہیں۔

ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فوجی عدالتوں کو ملک میں متوازی نظام عدل قرار دیتے ہوئے ان کی کارروائی پر سوال اٹھاتی رہی ہیں لیکن حکام کا موقف ہے کہ ان میں نہ صرف ملزمان کو صفائی کا موقع فراہم کیا جاتا ہے بلکہ فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزا کے خلاف ملزمان اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا حق بھی رکھتے ہیں۔

دریں اثنا سزائے موت پانے والے ایک مجرم کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں پھانسی کے بجائے کسی اور طریقے سے سزائے موت پر عمل درآمد کی استدعا کی گئی ہے۔

مجرم جان بہادر کو 2000ء میں دوہرے قتل کے جرم میں تخت بھائی کی ماتحت عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے خلاف دائر اس کی تمام اپیلیں حتیٰ کہ صدر مملکت سے کی گئی رحم کی اپیل بھی مسترد ہو چکی ہے۔

گزشتہ ہفتے مجرم کے وکیل محمد خورشید خان نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پھانسی کے ذریعے سزائے موت دینا غیر انسانی اور تکلیف دہ عمل ہے لہذا کسی اور ذریعے سے سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔

اپنی نوعیت کی اس منفرد درخواست کے بارے میں پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وکیل خورشید خان کا کہنا تھا کہ پھانسی کی سزا صرف تیسری دنیا کے ملکوں میں رائج ہے جب کہ امریکہ سمیت دیگر دنیا میں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مہلک انجیکشنز سمیت دیگر طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

"وجہ یہ ہے کہ اس (پھانسی) میں ظلم ہے یہ غیر انسانی ہے۔ میں نے کہا کہ سزائے موت رکھیں لیکن جو ظالمانہ طریقے سے عمل درآمد ہوتا ہے جس کے بارے میں جب میں نے مطالعہ کیا تو پتا چلا کہ پھانسی سے عام طور پر چار سے چھ منٹ لگتے ہیں اور بعض اوقات جان نہیں نکلتی اور 15 سے 20 منٹ لگ جاتے ہیں۔۔۔ جس طرح انسانوں کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں اقوام متحدہ کے میثاق کے تحت قیدیوں کے بھی بنیادی حقوق ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ جان بہادر کو قصاص و دیت کے قانون کے مطابق اسلامی دفعہ کے تحت سزا دی گئی جب کہ اس پر عمل درآمد دفعہ 368 تعزیرات پاکستان کے تحت کیا جارہا ہے۔

عدالت اس معاملے کی سماعت 26 جولائی کو کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG