رسائی کے لنکس

ذہنی بیماری شیزو فرینیا کے علاج میں نمایاں کامیابی


غیبی آواز وں کا سنائی دینا، شیزو فرنیا کے مریضوں اور ان کے قریبی حلقے کے لیے خاصا  پریشان کن ہوتا ہے۔

سائنس دانوں نے دماغ کے اس حصے کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے ذہنی بیماری شیزو فرینیا پیدا ہوتی ہے۔

منگل کے روز سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے بتایا کہ وہ مقناطیسی لہروں کے ذریعے اس مرض پر کنڑول میں جزوی کامیابی حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سائنس دانوں کی ٹیم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شیزوفرنیا کے مریضوں پر تجربات کے دوران مقناطیسی لہروں کے علاج سے ایک تہائی مریضوں میں نمایاں بہتری آئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اب ہم نسبتاً یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دماغ کا ایک مخصوص حصہ ایسا ہے جو ان واہموں اور تصورات کو جنم دیتا ہے جو شیزوفرینا کے مریض کو غیبی آواز وں کی صورت میں سنائی دیتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اب ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں ہائی فریکونسی کی مقناطیسی لہریں کچھ مریضوں کی بیماری کی شدت میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ طویل مدت کے علاج کے سلسلے میں ہائی فریکونسی مقناطیسی لہریں یا ٹی ایم ایس کی افادیت پر مزید تجربات کی ضرورت ہے۔

ان تجربات کے نتائج ابھی کسی سائنسی جریدے میں شائع نہیں ہوئے تاہم انہیں پیرس میں دماغی اور نفسیاتی بیماریوں سے متعلق یورپی کالج میں منعقدہ ایک کانفرنس میں پیش کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنس دانوں کی ٹیم نے ان تجربات میں شیزوفرینا کے 33 مریضوں کا علاج ٹی ایم ایس سے کیا جب کہ 26 مریضوں کو روایتی دوا دی گئی۔

پہلے گروپ کے مریضوں کے دماغ کے اس حصے کو، جس کا تعلق بول چال سے ہے، دو روز تک دن میں دو بار مقنا طیسی لہروں کے عمل سے گذارا گیا۔

دو ہفتوں کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کو غیبی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ تقریباً 35 فی صد مریضوں نے بتایا کہ انہیں نمایاں افاقہ ہوا ہے۔

غیبی آواز وں کا سنائی دینا، شیزو فرنیا کے مریضوں اور ان کے قریبی حلقے کے لیے خاصا پریشان کن ہوتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں شیزو فرنیا کے دو کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ مریض موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG