رسائی کے لنکس

logo-print

شانگلہ میں ملالہ فنڈ سے قائم اسکول میں درس و تدریس کا آغاز


خیبر پختونخوا کے پسماندہ پہاڑی ضلع شانگلہ میں ملالہ ایجوکیشن فنڈ کے مالی تعاون سے ایک معیاری تعلیمی ادارے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد وہاں باقاعدہ طور پر درس و تد ریس کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے آبائی علاقے برکانا تحصیل پورن میں خپل کور فاؤنڈیشن نے 14 ماہ میں یہ اسکول تعمیر کروایا اور اس میں فی الوقت 190 بچیوں کو پرائمری اور مڈل کلاسز میں داخلہ دیا گیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے سربراہ محمد علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی تنظیم ہر اس جگہ اسکول بنانے کی کوشش کرتی ہے جہاں اسے مفت زمین مہیا ہو جائے اور پھر علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملالہ فنڈ نے برکانا کے علاقے میں سکول کی تعمیر کے لئے زمین اور تقریباً ڈھائی کروڑ روپے فراہم کیے تھے۔

محمد علی نے کہا کہاس سکول میں 60 فیصد بچوں کو مفت تعلیمی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جب کہ بقیہ 40 فیصد طالبات سے فیس وصول کی جاتی ہے۔ ان کے بقول مفت تعلیمی سہولیات یتیم، بے سہارا اور غریب بچیوں کو دی جاتی ہے۔

"اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمام بچے ایک جیسی سہولتوں کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور انھیں ایسا نہ لگے کہ یہ امیر بچوں کا اسکول ہے یا کسی کو یہ محسوس ہو کہ یہ غریب بچوں کو اسکول ہے اس سے ان بچوں میں اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے۔"

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی تو سوات کے مرکزی قصبے مینگورہ میں پیدا ہوئی تھیں لیکن ان کے والدین ضلع شانگلہ کے اس علاقے سے ہیں جہاں پر خپل کور فاؤنڈیشن نے بچیوں کے لئے ماڈل سکول قائم کیا ہے۔

یہ تنظیم مستقبل میں بچیوں کے لیے ایسا ہی ایک کالج بنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG