رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور میں اسموگ، شہر کے تمام اسکول بند


اسموگ کے باعث لوگوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آئی اور کھلی فضا میں نکلنے پر آنکھوں میں جلن کی شکایات بھی عام رہیں۔

پاکستان کے شہر اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی میں اضافے اور اسموگ کی شدت کے باعث جمعرات کو تمام اسکول بند ہیں تاہم رات ہونے والی بارش کی وجہ سے اسموگ کی شدت میں کمی آئی ہے۔

لاہور میں بدھ کی شام اسموگ کی شدت میں اچانک اضافہ ہوگیا تھا جس کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ شہر کے تمام اسکول جمعرات کو بند رہیں گے۔

ٹوئٹ میں وزیرِ اعلٰی پنجاب نے مزید کہا کہ حکومت اسموگ کا جائزہ لے رہی ہے اور فصلوں کا فضلہ جلانے سمیت دیگر عوامل جو اسموگ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ان کے خلاف اقدامات کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

تاہم بدھ کی شب ہونے والی بارش اور ہوا کا رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے شہر میں صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اور جمعرات کو اسموگ بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے۔

لاہور میں کچھ طالبات اسکول بند ہونے کا نوٹی فکیشن پڑھ رہی ہیں۔
لاہور میں کچھ طالبات اسکول بند ہونے کا نوٹی فکیشن پڑھ رہی ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور میں بدھ کی رات ہونے والی بارش کی وجہ سے اسموگ میں مزید اضافے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

لیکن اس سے قبل بدھ کو لاہور کے شہریوں کو اسموگ کے باعث سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آئی جب کہ کھلی فضا میں نکلنے پر آنکھوں میں جلن کی شکایات بھی عام رہیں۔

پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق اگر انڈیکس کی ریڈنگ 400 سے 500 کے درمیان ہو تو اس کا مطلب ہے کہ فضائی آلودگی زیادہ بڑھ گئی ہے جب کہ بدھ کو لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 721 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس فضائی آلودگی کا اندازہ لگانے کا ایک پیمانہ ہے۔

لاہور کے مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے بچے پانچ نومبر کو اپنے چہروں پر ماسک پہن کر لاہور ہائی کورٹ گئے تھے اور عدالت میں فضائی آلودگی کے خلاف ایک پٹیشن بھی دائر کی تھی۔

پیٹیشن دائر کرنے والے بچوں میں لیلٰی عالم اور عیسٰی میر بھی شامل ہیں۔ لیلیٰ میر نے کہا کہ مُجھے معلوم ہے کہ اسموگ سب سے زیادہ بچوں کو مُتاثر کرتا ہے۔ جب ہم صُبح اسکول جاتے ہیں تو میری کلاس میں کافی بچے سردرد اور سانس کے مسلئے کی شکایت کرتے ہیں۔

عیسیٰ میر نے کہا کہ ائیر کوالٹی ففٹی کے قریب ہونی چاہیےجو دو سو سے بھی اُوپر چلا جاتا ہے، اس سے ہماری آنکھیں بھی خراب ہورہی ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بظاہر تو اسموگ سے آنکھوں میں جلن اور گلے کی خراش کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ لیکن یہ کینسر اور دل کے عارضے جیسی خطرناک بیماریوں کا بھی سبب بنتی ہے۔

لاہور میں وزارتِ ماحولیات کے اہلکار اسموگ سے بچنے کے لیے لوگوں میں ماسک تقسیم کر رہے ہیں۔
لاہور میں وزارتِ ماحولیات کے اہلکار اسموگ سے بچنے کے لیے لوگوں میں ماسک تقسیم کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا میں موجود مُضرِ صحت ذرات اور اسموگ ہمارے پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف دل کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ گزشتہ دس برسوں میں پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی تیزی سے بڑھی ہیں۔

اسموگ میں اضافے کے باعث حدِ نگاہ بھی کم ہو گئی تھی جب کہ ماہرینِ صحت نے لوگوں، بالخصوص بچوں اور بزرگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

یاد رہے کہ بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی اور اس کے ملحقہ بعض علاقے بھی گزشتہ کئی دنوں سے اسموگ کی لپیٹ میں ہیں۔ اسموگ میں اضافے کی بڑی وجہ دیہاتوں میں جلائے جانے والے زرعی فضلے کو قرار دیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG