رسائی کے لنکس

امریکہ میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا


Education

امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا کے آغاز ہی پر تمام تعلیمی ادارے بند کر دئے گئے تھے اور طلبا سے ہاسٹل بھی خالی کروا لئے گئے تھے۔ ہر سطح پر تعلیم کا سلسلہ اب آن لائن جاری ہے؛ اور یوں، طلبا کا تعلیمی سال بغیر نقصان کے جاری ہے۔

کرونا کی وبا اور امریکہ میں تعلیمی صورتحال
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:06 0:00

کرونا وائرس کی وبا کا زور ابھی ٹوٹا نہیں مگر امریکہ کی ریاستوں میں کاروبارِ زندگی آہستہ آہستہ کھلتا جا رہا ہے۔ البتہ، تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

نیویارک امریکہ کی تمام ریاستوں میں کرونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے۔ اس کے گورنر اینڈریو کومو نے گذشتہ ہفتےاعلان کیا تھا کہ نیویارک کے تمام سکول اور یونیورسٹیاں سال کے باقی ماندہ عرصے کیلئے بند رہیں گی۔ چنانچہ، تعلیمی اداروں نے سال کے آخر میں ہونے والے تمام امتحانات آن لائن ہی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دانیال سینٹ جانز یونیورسٹی میں سالِ اوّل کے طالبعلم ہیں۔ اپنی فیملی کے ساتھ بیرونِ ملک گئے اور پروازیں بند ہونے کی وجہ سے امریکہ واپس نہیں آ سکے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی کلاسز لیتے رہے ہیں؛ اور اب ان کے فائنل امتحان بھی ہو گئے ہیں۔

تعلیمی ادارے بند ہوئے تو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایک نعمت بن گیا۔ بفلو سٹیٹ یونیورسٹی میں کمیونیکیشن کے پروفیسر فیضان حق کہتے ہیں کہ ہم اساتذہ کو بھی نئے طریقے کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا ہے۔ اگرچہ، ابتدا میں کچھ مشکل ہوئی مگر اب عادت ہوگئی ہے اور طلبا بھی اس معمول میں ڈھل گئے ہیں۔

پروفیسر فیضان کہتے ہیں کہ اس نئے طریقہ تعلیم میں ہر ایک طالبعلم پر توجہ دینا آسان ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، کالج میں کلاس ختم ہوتے ہی طلبا بکھر جاتے تھے اور ٹیچر سے بات کرنے کیلئے انہیں الگ سے وقت لینا پڑتا تھا۔ مگر، اب لیکچر ختم ہوتے ہی کسی بھی طالبعلم سے انفرادی طور پر رابطہ ہو سکتا ہے اور یوں ہر ایک طالبعلم پر انفرادی توجہ دی جا سکتی ہے۔

مثالی صورتِ حال کہیں بھی نہیں ہوتی۔ یہاں امریکہ میں بھی بہت سے طلبا ایسے ہیں جنہیں تمام سہولتیں وافر میسر نہیں ہیں۔ پروفیسر فیضان کہتے ہیں کہ بعض گھروں میں ایک کمپیوٹر باری باری ایک سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں، تو مشکل ہو جاتی ہے۔

دانیال نے بتایا کہ انہیں اپنے اساتذہ سے رابطے میں کبھی دشواری پیش نہیں آئی اور یہ بات بہت حوصلہ افضا ہے کہ اپنے ملک میں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اپنا تعلیمی سال مکمل کر پائے ہیں۔

سال کے آخر میں امتحانات کے بارے میں پروفیسر فیضان نے بتایا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور تھا، مگر اس کے لیے بھی آن لائن طریقہ کار موجود ہے۔ اور اگرچہ ہم یہ معلوم نہیں کر سکتے آیا طالبعلم کتاب کھول کر جواب لکھ رہا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر طرح کی انفارمیشن آن لائن موجود ہے۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی طالبِ علم اسے کس طرح استعمال کر رہا ہے اور یہ کہ اسے اپنے استاد کی بات کتنی سمجھ میں آئی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ایک طریقہ سپیڈ ٹیسٹنگ کا بھی ہے جس کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اگر سو کے لگ بھگ سوال ہیں تو کس طالبعلم نے جواب دینے میں کتنا وقت لیا ہے۔ اور پھر اسی قابلیت کی بنیاد پر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کون سا طالبعلم کامیابی کے ساتھ اگلے گریڈ میں جا سکتا ہے۔

بیس مارچ کو امریکی محکمہ تعلیم نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ریاستیں روایتی طریقے سے امتحان نہیں لے سکتیں، تو ہنگامی حالات کے پیشِ نظر 'ہر طالبعلم کامیاب' نامی ایکٹ کے تحت سال 2019ء اور 2020ء کیلئے طلبا کو امتحان لئے بغیر ہی اگلی جماعت کیلئے کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔

مئی کا مہینہ امریکہ میں اکثر گریجوئیشنز یا تقسیمِ اسناد کی تقریبات کا مہینہ ہوتا ہے، مگر اس سال کرونا وائرس نے وہ تمام رونقیں ختم کر دی ہیں جو پرگرام اور گریجوئیشن پارٹیوں کی روحِ رواں ہوتی ہیں اور جن کیلئے طلبا اور والدین پورا سال انتظار کیا کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG