رسائی کے لنکس

logo-print

بے روزگاری کی شرح 25 فی صد تک پہنچ سکتی ہے: امریکی وزیرِ خزانہ


امریکی وزیرِ خزانہ اسٹیون منوچن

اتوار کو وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے فاکس نیوز نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بحالی کا عمل شروع ہونے سے پہلے معاشی حالات مزید بدتر ہو سکتے ہیں۔ بہتری کا عمل اس سال کے دوسرے نصف سے شروع ہو جائے گا اور اگلے سال تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح 25 فی صد تک جا سکتی ہے۔ دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے مشیر اقتصادیات کیون ہیسیٹ نے ایک اور امریکی نیوز چینل سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری کی شرح 20 فی صد ہو جائے گی اور مئی جون تک مزید لاکھوں افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں، جو بے روزگاری الاونس کا تقاضا کریں گے۔

اس وقت بے روزگاری کی شرح 1930 کی تاریخی سرد بازاری سے بھی بد تر ہے۔ تاہم وزیر خزانہ منوچن کا کہنا ہے کہ اس میں امریکی کارکنوں یا کاروبار کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہم نے اپنی معیشت کو خود بند کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کرونا وبا کے پھیلنے کے بعد فضائی کمپنیوں اور ہوٹلوں سمیت بہت سے کاروبار بند کرنا پڑے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو گئیں۔

منوچن نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ دوسری سہ ماہی بہت زیادہ خراب ہو گی، لیکن معیشت دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو جائے گی۔ اس صورت حال کی وضاحت میں اس طرح کر سکتا ہوں کہ میں آدھا گلاس بھرا اور آدھا خالی دیکھ رہا ہوں۔

دوسری طرف امریکہ کے صحت کے ماہرین معیشت کو تیز رفتاری سے کھولنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے کرونا وبا کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

منوچن اس نظریے سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر احتیاط سے کاروبار کھولے جائیں تو خطرہ کم ہو سکتا ہے اور اس عمل کی پوری طرح سے نگرانی ہو گی۔

امریکہ پہلے ہی تین ٹریلین ڈالر ملکی معیشت میں ڈال چکا ہے، جس کا مقصد بے روزگار کارکنوں اور بند کاروبار کی مدد کرنا ہے۔

کچھ ڈیموکریٹ اراکین مزید امداد کے حق میں ہیں، جب کہ وزیر خزانہ "انتظار کرو اور دیکھو" کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس پہلے ہی ایک بہت بڑی رقم منظور کر چکی ہے اور اس سے پیشتر کہ ہم مزید رقم کی دست یابی کی بات کریں، ہمیں احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ ہم امریکی عوام کی مدد کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مشیر اقتصادیات ہیسیٹ کا کہنا ہے کہ ہمیں پتا ہے کہ معیشت نیچے کی طرف جا رہی ہے، تاہم ہمیں امید ہے کہ ہم اس کو سنبھال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بجٹ دفتر نے سال کے آخری نصف میں معیشت کی بحالی کی پیش گوئی کی ہے اور اگر خدا نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا۔

وائٹ ہاؤس بھی اس سے متفق ہے۔ تاہم انہوں نے انتباہ کیا کہ امریکی معیشت غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے۔ کیوں کہ ہمیں ابھی تک صحیح طور پر علم نہیں کہ اس وائرس پر کب اور کیسے قابو پایا جائے گا اور ہم کب اپنے معمولات کی طرف لوٹ سکیں گے۔ بینک کرپسی یا کاروبار کے مکمل خاتمے جیسی بعض چیزوں کے پیدا ہونے سے معیشت کو دوبارہ کھڑا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے بہتر بات یہ ہے کہ کاروبار چلتا رہے اور کارکنوں کے ساتھ تعلق باقی رہے، تاکہ جیسے ہی معیشت کھلے، سب کچھ درست سمت میں چلنا شروع ہو جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG