رسائی کے لنکس

logo-print

تاریخ ساز ریفرنڈم : اسکاٹ لینڈ کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں


حالیہ انتخابی جائزوں کے مطابق' یس 'اور 'نو' کے حامیوں کے بیچ مقابلہ بہت سخت ہے اور مقابلہ اتنا کانٹا کا ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بے سود ہوگا ۔

اسکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے اس تاریخی ریفرنڈم پرنہ صرف برطانوی عوام بلکہ دنیا بھرکی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

18 ستمبرکواسکاٹش عوام ریفرنڈم کے ذریعے برطانیہ کے ساتھ 1707 سے قائم الحاق کو برقراررکھنےکےلیے اپنا ووٹ ڈالیں گے یا پھرخودمختاراسکاٹ لینڈ کے قائم کے حق میں مہر ثبت کریں گے۔ اس تاریخ ساز فیصلے کے نتیجے میں صدیوں سے متحد برطانیہ کا ایک حصہ اسکاٹ لینڈ مارچ 2016 میں آزادی حاصل کرسکتا۔

ریفرنڈم سے 16 ہفتوں قبل چلائی جانے والی انتخابی مہم میں شامل اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سیمنڈ برطانیہ سے علحیدگی کی مہم 'یس اسکاٹ لینڈ' کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ برطانیہ کےساتھ اتحاد کےحامیوں نے اپنی مہم 'بیٹر ٹو گیدر' کے نام چلائی۔

برطانوی میڈیا کی خبروں کے مطابق ایک طرف اسکاٹ لینڈ کے قوم پرست پرامید ہیں کہ اٹھارہ ستمبر کا سورج ان کے لیے آزادی کی نوید لےکرآئے گا اورصدیوں سے آزادی کا خواب دیکھنے والے عوام آخرکار اختیارات کی اس جنگ کو جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

دوسری جانب حکومت برطانیہ کے اتحاد کی خاطراسکاٹ لینڈ کے مالیاتی اور ٹیکس کے معاملات اسکاٹ لینڈ کے حوالے کرنے کا سوچ رہی ہے اس کے علاوہ علاقائی حکومت کو سماجی معاملات میں فیصلہ سازی کا اختیار سونپا جانے کی امید دلائی گئی ہے۔

برطانوی قیادت برطانیہ کو متحد رکھنے کے لیے پوری کوششیں کر رہی ہے اور ملک کی تینوں بڑی جماعتیں کنزرویٹیو پارٹی، لیبر پارٹی اور لبرل ڈیمو کریٹ اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں جس کے تحت ریفرنڈم میں علیحدگی کے حامیوں کی شکست کی صورت میں اسکاٹ لینڈ کومزید اختیارات سونپےجائیں گے۔

گذشتہ روز اسکاٹش عوام کو منانے کی پشکش کے طور پروزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے عوامی اخراجات کا فارمولہ پیش کیا گیا ہے جس پرلیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ اور نائب وزیر اعظم نک کلیگ سمیت ڈیوڈ کیمرون نے دستخط کئے ہیں۔ اس فارمولے کے مطابق برطانوی عوام کے اوسط اخراجات کی نسبت ہر اسکاٹش کے لیے1,300پونڈ سے زائد رقم عوامی فنڈ میں مختص کی جائے گی۔

تاہم ڈیوڈ کیمرون متعدد باریہ بیان دے چکے ہیں کہ اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علحیدگی کی صورت میں وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔

بکنگھم پیلس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکہ برطانیہ کوئن الزیبیتھ اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ علیحدگی یا اتحاد کے فیصلے پر اثرانداز ہونا نہیں چاہتیں تاہم انھوں نے اسکاٹش عوام سے سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالنے کے لیے کہا ہے۔

سیاسی مبصرین کی آراء یہ ہے کہ حالیہ انتخابی جائزوں کے مطابق' یس' اور' نو' کے حامیوں کے بیچ مقابلہ بہت سخت ہے اوراتنے کانٹے کا ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بےسود ہوگا۔

XS
SM
MD
LG