رسائی کے لنکس

logo-print

قتل کے فتوے دینے والوں کے خلاف کیا کاروائی کی؟ سپریم کورٹ کا حکومت سے سوال


تحریکِ لبیک پاکستان کی اعلی قیادت نے آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ آنے پر اعلی عدلیہ، فوج اور حکومت کے ارکان کے خلاف کفر اور قتل کے فتوے دیے تھے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت کی ایک رِٹ ہوتی ہے، ہنگاموں کے دوران وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔ ان لوگوں نے حکومت کو مفلوج کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آسیہ بی بی کی بریت پر تحریک لبیک پاکستان کے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔ جس میں عدالت نے تحریک لبیک کے لوگوں پر ہونے والے مقدمات اور گرفتاریوں کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے آسیہ بی بی رہائی کے خلاف کفر اور قتل کے فتوے دئیے ان کے خلاف کیا کارروائی کی؟ کیا وہ فتوٰی دینے کے اہل بھی ہیں یا نہیں؟ 'حکومت کی ایک رِٹ ہوتی ہے، ہنگاموں کے دوران وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔' چیف جسٹس نے کہا کہ ان لوگوں نے حکومت کو مفلوج کر دیا تھا۔

اِس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کو اخبار میں اشتہار دے کر لوگوں سے پوچھنا چاہیے تھا جن کا نقصان ہوا۔ جس پر سرکاری وکیل کہا کہ انہوں نے نقصان کہ تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے لکھا کہ ستائیس موٹرسائیکلوں کا نقصان ہوا ہے جبکہ کم سے کم سو سے ڈیرھ سو موٹرسائیکلیں تباہ ہوئی۔ موٹروے پر جلنے والی گاڑیوں زکر ہی نہیں۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر ثاقب نے عدالت کو بتایا کہ ہنگاموں کے دوران سب سے زیادہ نقصان صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ اور لاہور میں ہوا۔ جس کے لیے انہوں نے یہ معاملہ کابینہ میں بھیج دیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کچھ خدا کا خوف کریں، عدالت سے ہٹ کر بھی آپ کی کوئی ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس اویس احمد نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ بھر میں تحریک لبیک کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، مقدمات درج کیے ہیں جن میں سے کچھ لوگوں نے اپنی ضمانتیں کرا لی ہیں۔ “ہم نے تحریک لبیک کے 923 کارکنوں کو گرفتار کیا، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیں جن میں سے 503 افراد ایسے ہیں جو مختلف کیسوں میں مطلوب تھے اور چھبیس افراد ایسے ہیں جو دہشتگردی کے مختلف واقعات میں پولیس کو مطلوب ہیں”۔

دوران سماعت انسپکٹر جنرل آف سندھ پولیس کلیم امام نے کہا کہ کراچی سمیت صوبہ بھر میں تحریک لبیک کی پہلے دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو گرفتار کیا گیا جبکہ لوگوں کے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ “ہم نے تین سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا کچھ افراد کو سولہ ایم پی او کے تحت حراست میں لیا۔ جن مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کے دوران شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہم ان کے نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ اس میں جو بھی عدالت جرمانہ یا فیصلہ کریگی اُس پر عمل کرینگے”۔

آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام نے صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی مقامی عدالت نے سنہ دو ہزار دس میں سزائے موت سنائی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ روان برس اکتوبر کے مہینے میں میں عدالت عظمٰی نے آسیہ بی بی کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔ جس کے خلاف تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنوں نے ملک بھر میں ہنگامے کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG