رسائی کے لنکس

پاکستانی فلم ساز نور نغمی کی فلم ’اینجلز ود اِن‘ کی اسکریننگ


اس دستاویزی فلم میں امریکہ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی ڈاکٹروں اور ان کی خدمات سے استفادہ کرنے والے مریضوں کے انٹرویو شامل کئے گئے ہیں، جن میں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح پاکستانی ڈاکٹر دور افتادہ علاقوں میں امریکی عوام کی خدمت انجام دے رہے ہیں

سانحہٴ نائین الیون کے بعد امریکی مسلمانوں، خصوصاً پاکستانیوں نے، عوامی سلوک میں ایک تبدیلی محسوس کی، جس کی وجہ میڈیا کا منفی پروپگنڈہ بتایا جاتا ہے۔ کام کے مقامات ہوں یا ایمگریشن حکام کے سامنے جانچ، انھیں زیادہ سختی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں، اس عوامی سلوک میں زیادہ ابتری آنے لگی ہے۔ ایسے میں ایک مسلمان فلم ساز کی بنائی ہوئی نئی فلم ’ایجنلز ود اِن‘ ان کے لئے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی ہے۔

نغمی انٹرپرائز کی فلم ’اینجلز ود اِن‘ دراصل ’ولن ود اِن‘ کا جواب ہے جس کے ڈائریکٹر معروف ہدایت کار اور اداکار نور نغمی ہیں، جبکہ اس کی پروڈکشن چند سال بیشتر امریکہ آکر آباد ہونے والے نوجوان پروڈیوسر عمر جاہن نے کی ہے۔

’انجیلز ود اِن‘ کی اسکریننگ گزشتہ دنوں ورجنیا کے مقامی سنیما گھر میں ہوئی۔ اس موقع پر فلم ساز، اداکار اور پروڈیوسر کے علاوہ بڑی تعداد میں فلم شائقین بھی موجود تھے۔

اس دستاویزی فلم میں امریکہ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی ڈاکٹروں اور ان کی خدمات سے استفادہ کرنے والے مریضوں کے انٹرویوز شامل کئے گئے ہیں، جن میں وہ بتا رہے ہیں کہ کس طرح پاکستانی ڈاکٹرز دور افتادہ علاقوں میں امریکی عوام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر، نور نغمی کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور مسلمان کمیونٹی کا امریکہ کی تعمیر و ترقی میں مساوی حصہ ہے۔ دیگر کمیونٹی کی طرح، وہ بھی یہاں کے باشندے ہیں اور یہی بات باور کرانا ان کا مقصد ہے۔ بقول نور نغمی ’’منفی پروپیگنڈہ کے لئے فلم بنا کر ایوارڈ لینا آسان ہے، مثبت کاموں کے لئے فلم بنا کر ایوارڈ لیا جائے تو بات ہے‘‘۔

فلم میں پاکستان کی معروف فلمی اداکارہ ریما نے بھی کام کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ فلم کا پیغام نہایت طاقتور ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ فلم امریکہ اور مغربی دنیا میں مسلمانوں کا بہتر تاثر قائم کرنےکا ذریعہ بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے خود بھی اسی لئے اس فلم میں کام کیا ہے۔

فلم ’انجیلز ود اِن‘ میں دکھایا گیا ہے کہ ایک پاکستانی سرجن ملک سے واپس امریکہ پہنچتا ہے تو کس طرح ایمگریشن حکام اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ انسانی خدمات کی انجام دہی کی بجائے ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی، مختلف ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ کس جذبے کے تحت امریکہ کے پسماندہ علاقوں میں عوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اسکریننگ کے لئے سنیما ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان فلم بینوں نے ’انجلز ود اِن‘ کے پیغام کو خوب سراہا۔ پاکستان کی ماضی کی مایہ ناز اداکارہ صبیحہ خانم کی پوتی، اداکارہ سحرش خان کہتی ہیں یہ فلم ایک اچھی کوشش ہے۔ ان کی دعا ہے کہ فلم کامیاب رہے۔

مسلمانوں کے حوالے سے، امریکہ میں اس طرح کی فلمیں میڈیا پروپگیڈہ کا مؤثر جواب ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG