رسائی کے لنکس

logo-print

وادی نیلم میں سیلابی ریلہ: لاپتہ ہونے والوں کی تلاش جاری


فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں امدادی اداروں کی طرف سے اتوار کی رات آسمانی بجلی گرنے سے پیدا ہونے والے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے بائیس افراد کی تلاش جاری ہے۔

وادی نیلم کے ڈپٹی کمشنر راجہ شاہد محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابھی تک دریائے نیلم سے ایک خاتون کی ٹانگ ملی ہے جسے شناخت کی خاطر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بجھوا دیا گیا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لیسوا گاؤں کو تباہ کرنے والے سیلابی ریلے میں بڑے بڑے پہاڑ اور درخت تھے جس سے لاپتہ افراد کے جسم کچلے گئے ہوں گے اور کوئی سالم لاش ملنے کے امکانات کم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

پاکستانی کشمیر کے وزیر برائے قدرتی آفات احمد رضا قادری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلابی ریلے نے لیسوا گاؤں کا سب کچھ دریائے نیلم میں پھینک دیا تھا۔ اسلئے تمام لاپتہ افراد کی لاشیں ملبے کے ساتھ دریا میں بہہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے نیلم میں اس وقت پانی کی سطح بہت بلند ہے جس کی وجہ سے تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے اور معمول کے برعکس کوئی لاش پانی کی سطح پر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ امدادی کارکن لاشیں نکالنے کے لیے دریائے نیلم کے کناروں پر موجود ہیں ۔

احمد رضا قادری نے مزید بتایا کہ لیسوا گاؤں سے بے گھر ہونے والے 50 سے زائد خاندانوں کے طعام و قیام کے لیے کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے اور متاثرین میں امدادی سامان بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔

لوگوں کو نالوں اور دریا کے قریب بسنے اور جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے جس کے لیے محمکہ موسمیات کی طرف سے بارشوں کی پیش گوئی کے حوالے سے الرٹ بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے فیصل آباد، لاہور اور شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے سیلابی ریلے میں بہنے والے تبلیغی جماعت کے گیارہ افراد کے رشتہ داروں کیلئے وادی نیلم میں قیام کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG