رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر میں پل ٹوٹنے سے ڈوبنے والے سیاحوں کی تلاش جاری


وادی نیلم میں پل گرنے سے 25 سیاح ڈوب گئے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاحتی وادی نیلم میں گزشتہ روز پل ٹوٹنے کے باعث نالے میں ڈوبنے والے سیاحوں کی تلاش جاری ہے ۔پیر کے روز ایک اور سیاح کی لاش دریائے نیلم سے برامد ہونےکے بعد مرنے والوں کی تعداد سات ہوگئی ۔جبکہ حکام کی طرف سے پانچ لاپتہ میں سے کسی کے زندہ بچنے کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے ۔

واضع رہے کہ اتوار کے روز وادی نیلم کے علاقے کنڈل شاہی کے قریب جاگراں نالے پر نصب ایک عارضی پل ٹوٹنے سے ساہیوال اور فیصل آباد کے دو تعلیمی اداروں کے طلبہ سمیت 25 افراد نالے میں گر گئے تھے جن میں سے 11 کو بچالیا گیاتھا اور سات کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں جن میں تین خواتین اور چار مرد شامل ہیں۔

پیر کے روز آرمی کے غوطہ خور جاگراں نالے اور دریائے نیلم میں لاپتہ سیاحوں کی لاشیں تلاش کرتے رہے ۔

پاکستانی کشمیر کے محکمہ سیاحت کے عہدیدار خواجہ رئیس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیاحت کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں گئے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں ۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد والدین کے اندر خوف پیدا ہوا ہے جسے دور کرنے کے لیے مہم شروع کی جائے گی۔

محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ محکمے کو عملے کی کمی سامنا ہے اور سیاحت پالیسی کے منظور نہ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو تمام سہولیات اور تحفظ کی فراہمی ممکن نہیں ہو رہی ۔

حادثے کا شکار ہونے والے سیاحوں کے ورثا کی طرف سے نیلم میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معروف موبائل فون کمپنوں کی سروس نہ ہونے پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتہ داروں سے بروقت رابطہ نہیں کرسکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG