رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: طیارے کے ملبے کی تلاش کے 'علاقے میں توسیع'


تلاش میں مصروف ٹیمیں طیارے کی دم تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں کیونکہ یہیں پر فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر موجود ہوتے ہیں۔

ایئر ایشیا کی پرواز 8501 کے ملبے اور متاثرین کی تلاش کے علاقے کو مزید بڑھا دیا گیا ہے جب کہ کارکنان جہاز کے "بلیک باکس" یا فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر کو ڈھونڈنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ ہنری بامبانگ سوئیلسٹو نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام بحیرہ جاوا کے قریب ایک اور مقام پر بھی تلاش کی سرگرمیاں شروع کرنے جا رہے ہیں۔

"زیرآب تلاش کے لیے تمام آلات استعمال کیے جا رہے ہیں جب کہ غوطہ خوروں نے بھی پہلے سے زیادہ گہرائی میں جا کر کام شروع کیا ہے۔"

نو روز قبل انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے یہ مسافر طیارہ لاپتا ہو گیا تھا اور گزشتہ بدھ کو اس کی کچھ باقیات کی نشاندہی بحیرہ جاوا میں ہوئی تھی۔ گو کہ طیارے کو پیش آنے والے واقعے کے اصل محرکات کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا لیکن خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خراب موسم کا شکار ہوا۔

تلاش میں مصروف ٹیمیں طیارے کی دم تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں کیونکہ یہیں پر فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر موجود ہوتے ہیں۔

جہاز پر عملے سمیت 162 افراد سوار تھے جن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ آسٹریلیا سے فرانزک ماہرین کی ایک ٹیم بھی انڈونیشیا کی مدد کے لیے آئی ہے جو اب تک برآمد ہونے والی 37 لاشوں کی شناخت کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔

پیر کو جکارتا میں حکومت نے محکمہ ہوا بازی کے متعدد حکام کو اس انکشاف کے بعد معطل کر دیا کہ ایئرایشیا کی فلائیٹ 8501 کو حادثے کے روز پرواز کی باقاعدہ اجازت نہیں تھی۔

وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ فضائی کمپنی کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور کے لیے صرف پیر، منگل، بدھ اور ہفتہ کو پروازوں کی اجازت دی گئی تھی جب کہ تباہ ہونے والا جہاز اتوار کو سفر کر رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG