رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ: طالبان سربراہ ملا فضل اللہ پر پابندیاں عائد


رواں سال جنوری میں امریکہ نے بھی ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف تعزیرات عائد کی تھیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو ان لوگوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جن پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔

ملا فضل اللہ کو دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ان کارروائیوں میں مالی معاونت فراہم کرنے پر اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

ان پابندیوں کے بعد اب ملا فضل اللہ کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور اس کی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہو گی۔

رواں سال جنوری میں امریکہ نے بھی ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف تعزیرات عائد کی تھیں جس کے بعد کسی بھی امریکی شہری سے لین دین کے علاوہ طالبان کمانڈر کی ایسی تمام املاک جو امریکہ کے زیر کنٹرول تھیں وہ منجمد ہو گئیں تھیں۔

2013ء میں پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ کو اس کالعدم تنظیم کا سربراہ چنا گیا تھا۔

فضل اللہ کی سربراہی میں طالبان شدت پسندوں کی کارروائیوں میں جہاں ایک طرف تیزی دیکھی گئی وہیں اس تنظیم میں دھڑے بندیاں اور آپسی اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔

پاکستانی عہدیداروں کے مطابق ملا فضل اللہ سرحد پار افغانستان میں روپوش ہے جس کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد اور کابل کے درمیان بات چیت ہوتی آرہی ہے۔

گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد افغان فورسز نے اپنے علاقے میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں جن میں متعدد پاکستانی طالبان بھی مارے گئے۔

پشاور اسکول حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس واقعے کی ذمہ داری ملا فضل اللہ نے قبول کرتے ہوئے مزید کارروائیوں کی دھمکی دی تھی۔

پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ شمالی وزیرستان میں گزشتہ جون سے "ضرب عضب" کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

گزشتہ اکتوبر میں ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

پاکستانی کی سیاسی و عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شدت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG