رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار: امریکی سفارت خانے میں تربیتی مشق میں 'دھماکے' کی افواہ


امریکی عہدیداروں نے فوری طور پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احاطے میں تربیتی عمل کے دوران ایک گیس کے کنستر کو استعمال کیا گیا ہے۔

میانمار میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے پیر کو سفارت خانے کے احاطے کے قریب رکھے جانے والے گیس کے کنستر کی وجہ سے لوگوں کو ہونے والی پریشانی پر معذرت کی ہے۔

ترجمان نے اس امر کی تصدیق وائس آف امریکہ کی برمی سروس سے کی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اس احاطے کے قریب مقیم لوگوں نے دو روز قبل مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے ایک دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد ایک بدبو قریب کی گلیوں میں پھیل گئی۔ اس کے کچھ ہی دیر کے بعد کچھ لوگوں نے آنکھوں میں جلن کی شکایت کی۔

رنگون پولیس کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی طور پولیس نے ایک حملے کا شبہ ظاہر کیا جس کے بعد امدادی کارکن موقع پر پہنچ گئے۔ تاہم امریکی عہدیداروں نے فوری طور پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احاطے میں تربیتی عمل کے دوران ایک گیس کے کنستر کو استعمال کیا گیا ہے۔

سفارت خانے کے ایک نمائندے نے کہا کہ "اتوار 24 جولائی کی شام کو یگون میں امریکی سفارت خانے نے معمول کی سکیورٹی مشق کی تھی جو نادانستہ طور پر راہگیروں اور مارکیٹ کے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "(اس مشق کے دوران) کوئی بھی زخمی نہیں ہوا اور اور سفارت خانہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ ہم اپنے پڑوسیوں، اس علاقے میں موجود دیگر افراد سے معذرت خواہ ہیں"۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2013 میں ملک میں کئی چھوٹے دھماکے ہوئے جن کا بظاہر مقصد سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب ملک میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں نے میانمار کا رخ کیا۔

XS
SM
MD
LG