رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: ضلع تربت میں جامع سیکورٹی آپریشن


فائل

بلوچستان کے جنوبی ضلع تربت کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے اتوار کو کاروائی شروع کردی ہے جس میں سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق آپریشن ضلع تربت (کیچ) میں تگران اور زامران کے مختلف علاقوں میں جارہی ہے، فورسز نے مذکورہ علاقوں کو جانے والے راستوں کو آمد و رفت کے لیے مکمل بند کردیا ہے۔

بعض عینی شاہدین کے مطابق فورسز کی بڑی تعداد کو مذکورہ علاقوں میں جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور فورسز کو فضائی کمک بھی حاصل ہے جاری آپریشن کے باعث گرفتاریوں یا دیگر نقصانات کی تفصیل تاحال معلوم نہیں ہو سکی البتہ بعض ذرائع کے مطابق فورسز نے علاقے سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے جن سے گزشتہ جمعے کے روز پیش آنے والے واقعہ میں ملوث شر پسندوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعے کو تحصیل بلیدہ کے علاقے واکئی میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں ؒ ایف سی کے چھ جوان ہلاک اور فوج کے ایک افسر سمیت 14 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے تھے، جبکہ جوابی کاروائی میں چار حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں بی ایل ایف، بی ایل اے اور بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے قبو ل کر لی گئی ہے، تینوں تنظیموں کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ یہ اُن کی مشترکہ کاروائی تھی۔

اُدھر اسلام آباد میں پاکستان نے اس واقعے پر ایران سے ہفتے کے روز باقاعدہ احتجاج کیا اور اسلام آباد میں مقیم ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ کے دفتر طلب کر کے پاک ایران بارڈر پر 30 دہشت گردوں کی جانب سے فرنٹیر کور کے قافلے پر حملے کے واقعے پر احتجاج کیا گیا، وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ایف سی کے جوان بارڈر پر پٹرولنگ کر رہے تھے کہ اُن پر حملہ کیا گیا جوابی کاروائی میں چار دہشت گرد بھی مارے گئے ایرانی سفیر کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی حوالہ کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ ایران کی سرزمین سے پاکستان پر حملے روکے جائیں اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ نومبر میں جب پاک ایران سرحد کے قریب کھدان کے علاقے سے نا معلوم مسلح افراد نے ایران کے سرحدی فورسز کے 14 اہلکاروں کو اغوا کیا تھا اُس وقت ایران نے الزام عائد کیا تھا کہ مسلح افراد پاکستان کی جانب فرار ہو گئے ہیں اور پاکستان ان کے خلاف کاروائی کرے، بعد میں پاکستان نے ایک کاروائی کے دوران پانچ ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کو ایک علاقے میں کاروائی کر کے بازیاب کر لیا تھا جن کو بعد میں ایران کے حوالے کر دیا گیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان نو کلومیٹر سے طویل سرحد ہے جہاں دونوں طرف سے لوگ باآسانی آ جا سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG