رسائی کے لنکس

logo-print

مساوی مواقع کا حصول، اوباما کا مل کر جستجو کرنے پر زور


’فرگوسن میں جو کچھ ہوا، ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی نئی بات نہ ہو۔ لیکن، یہ اچھوتا مرض اب عام نہیں۔ قانون یا ضوابط اب اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اور شہری حقوق کی تحریک سے قبل، یقینی طور پر ایسا تھا‘

شہری حقوق کو اجاگر کرنے کے حق میں 50 سال قبل ’فیما‘ سے ’منٹگمری‘ تک نکالی گئی دو ریلیوں کی یاد میں ہفتے کو منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر براک اوباما نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ ملک کی مزید بہتری کے لیے مل کر کوششیں کی جائیں۔

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ مساوی مواقع کی دوڑ ’ابھی جیتی نہیں گئی‘، براک اوباما نے، جو ملک کے پہلے افریقی نژاد صدر ہیں، الاباما کے شہر ’فیما‘ میں ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ وہ اِس سوچ کو نہیں مانتے کہ کچھ بھی نہیں بدلہ۔

یہ سالانہ تقریب ایسے موقع پر منائی جا رہی ہے جب افریقی امریکیوں کے ساتھ پولیس کے برتاؤ پر نسلی تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں، زیادہ تر دھیان مزوری کے قصبے، فرگوسن پر مرتکز ہے جہاں گذشتہ برس سڑک پر ہونے تصادم کے ایک واقعے میں ایک سفید فام پولیس اہل کار کے ہاتھوں ایک غیر مسلح سیاہ فام لڑکے، مائیکل براؤن کو گولی لگی، جس میں وہ ہلاک ہوئے۔

تاہم، صدر اوباما نے کہا کہ محکمہٴانصاف کی طرف سے اس ہفتے جاری کی گئی رپورٹ، جس میں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ فرگوسن میں پولیس عام طور پر سیاہ فام شہریوں کے حقوق پامال کرتی ہے، اس حقیقت کو مٹایا نہیں جا سکتا کہ ملک نے پیش رفت کی ہے۔

بقول اُن کے، فرگوسن میں جو کچھ ہوا، ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی نئی بات نہ ہو، لیکن یہ اچھوتا مرض اب عام نہیں ہے۔ قانون یا ضوابط اب اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اور شہری حقوق کی تحریک سے قبل، یقینی طور پر ایسا تھا۔

اُنھوں نے تمام نسل کے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ امریکہ کا فوجداری انصاف کا نظام سب کے کام آئے، نہ کہ یہ محض چند لوگوں کے لیے ہو۔

XS
SM
MD
LG