رسائی کے لنکس

logo-print

بچے سے جنسی زیادتی کے الزام میں اسلام آباد کے ایک مدرسے کا استاد گرفتار


فائل فوٹو

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک بارہ سالہ لڑکے سے جنسی زیادتی کے الزام میں مدرسے کے استاد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے یہ مقدمہ لڑکے کے والد کی درخواست پر درج کیا ہے۔

پولیس کے مطابق مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والا لڑکا کورال پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک مدرسے میں ایک استاد کے پاس پڑھنے جاتا تھا کہ گزشتہ اتوار اس نے لڑکے کو مبینہ طور پر زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

لڑکے کے والد نے پولیس کو بتایا کہ پیر کو اس کے بیٹے نے جب استاد کے پاس پڑھنے کے لیےجانے سے انکار کیا تو اس کی وجہ پوچھنے پر اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ استاد نے مبینہ طور پر چاقو سے مارنے کی دھمکی دے کر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں پنجاب کے قصور شہر میں سات سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعہ کی ملک بھر میں شدید مذمت کی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں بچوں سے جنسی زیادتی کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم ساحل کے رکن ممتاز گوہر کہتے ہیں کی زینب کے واقعہ کے میڈیا پر اجاگر ہونے کی وجہ سے بچوں کے خلاف تشدد و جنسی زیادتی کی واقعات کی رپورٹنگ میں بہت اضافہ ہوا۔

پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں بچوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے اور بعض بچوں کو تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ ایک غیر سرکاری ادارے ساحل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ہر سال ایسے حالات سے گذرنے والے بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

2016 کی ساحل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز اٹھارہ سال سے کم عمر کے 10 یا 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے رہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور سماجی و سیاسی حلقوں کی طرف سے ایسے واقعات کے تدارک کے لیے قوانین کے موثر اطلاق کےمطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

گوہر ممتاز کا کہنا ہے جہاں قوانین پر موثر عمل درآمد ضروری ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ والدین اور بچوں میں یہ شعور و آگہی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ بچے خود کو ایسے واقعات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG