رسائی کے لنکس

logo-print

وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے منصب سنھبال لیا


ٹلرسن نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ امریکی عوام کے مفاد کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

امریکی سینیٹ سے بطور وزیر خارجہ توثیق کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ریکس ٹِلرسن نے بدھ کی شب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

نائب صدر مائیک پینس نے وائٹ ہاؤس کے اول آفس میں ٹلرسن سے حلف لیا، اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔

ٹلرسن نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ امریکی عوام کے مفاد کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

ٹرمپ نے ٹلرسن کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نئے وزیر خارجہ کا دنیا بھر میں احترام کیا جاتا ہے اور وہ عالمی سفارت کاری میں اپنی منفرد صلاحیتوں اور اعلیٰ بصیرت کو بروئے کار لائیں گے۔

اس سے قبل امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر خارجہ کے طور پر تیل کے نامور منتظم، ریکس ٹِلرسن کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

ساتھ ہی صدر کی دیگر دو نامزدگیوں کے معاملے پر بھی پیش رفت سامنے آئی، جب ری پبلیکن ارکان نے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کے اختیار کردہ تاخیری حربوں کے خلاف غیر معمولی اقدامات کیے۔

رائے شماری کے دوران ری پبلیکز کے متحدہ کاؤکس کے علاوہ، تین ڈیموکریٹک اور ایک آزاد رُکن نے ٹِلرسن کی حمایت کی۔ اُن کے حق میں 56 جب کہ مخالفت میں 43 ووٹ پڑے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن، سینیٹر جان کورنن کے بقول ’’اُنھوں (ٹِلرسن) نے دنیا میں سب سے بڑا کاروبار قائم کرنے کا قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ اب وہ اپنا وسیع تجربہ، صلاحیت اور قابلیت استعمال کرتے ہوئے امریکی عوام کے لیے خدمات بجا لائیں گے‘‘۔

اِس سے قبل کئی ہفتوں تک دونوں جماعتوں نے ’ایکسون موبل‘ کے ’سی اِی او‘ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ قربت اور ساتھ ہی امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کی حیثیت میں اُن کی جانب سے ممکنہ کاروباری مفادات میں حائل ہونے سے متعلق بحث و مباحثہ جاری رہا۔

اِس سے قبل، کانگریس کے ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کے مابین سات مسلمان اکثریتی ملکوں سے آنے والے مسافروں پر عارضی پابندی عائد کیے جانے کے معاملے پر بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔

اُنھیں متعدد عالمی چیلنجوں کا سامنا ہو گا جن میں شام کی خانہ جنگی، شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیتیں اور چین اور روس کی جانب سے جارحانہ انداز اختیار کرنے میں اضافہ۔

ملک کے چوٹی کے سفارت کار کے طور پر، ٹِلرسن کا حالیہ خارجہ پالیسی امور سے سابقہ بھی پڑے گا، جیسا کہ میکسیکو-امریکہ کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے اخراجات، اور ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین کے امریکہ میں داخلے پر چار ماہ کی پابندی کا معاملہ شامل ہیں۔

سفری پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف مسلمان اکثریتی ملکوں میں مباحثہ چھڑ گیا ہے، بلکہ اُن میں برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ پابندی کے معاملے پر امریکی محکمہٴ خارجہ کے تقریباً 900 اہل کاروں کی جانب سے اختلاف رائے سامنے آیا ہے، جس ادارے کی سربراہی اب ٹِلرسن کے پاس ہے۔

تاہم، ڈیموکریٹ سینیٹر بین کارڈن، جن کا تعلق میری لینڈ سے ہے، نے کہا کہ ’’مجھے اِس بات پر تشویش ہے کہ مسٹر ٹِلرسن کے تسلیم کردہ کاروباری روابط وزیر خارجہ کے طور پر فرائض کی انجام دہی میں مخل ہوں گے، جن کا کام پوری دیانت سے ملک کے اعلیٰ اقدار کو پروان چڑھانا ہو گا، جو ہمارے ملک کی اساس ہے‘‘۔

کارڈن نے مزید کہا کہ ٹِلرسن سے کہا جائے گا کہ وہ ٹرمپ کی ’’خطرناک اور ضرر رساں خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کرائیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG