رسائی کے لنکس

logo-print

نامزد جج کیونو کی سینیٹ سے توثیق کا امکان بڑھ گیا


ری پبلیکن سینیٹر سوزین کولنز، سینیٹ میں ووٹ کے لیے آ رہی ہیں۔ 5 اکتوبر 2018

صدر ٹرمپ کے نامزد امیدوار بریٹ کیونو بظاہر سپریم کورٹ میں تاحیات جج کے عہدے پر منتخب ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔

بریٹ کیونو کے جج منتخب ہونے کے امکان میں اضافہ دو کلیدی سینیٹرز کی رائے ان کے حق میں تبدیل ہونے کے ہوا ہے۔

جمعے کے روز دو اہم سینیٹرز نے کہا کہ نامزد جج پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ، انہیں نامزدگی کی توثیق کے حق میں ووٹ دینے سے روک نہیں سکے گا۔

توقع ہے کہ سینیٹ ہفتے کے روز کیونو کے لیے ووٹنگ کرے گی۔ اگر سینیٹ ان کی نامزدگی کی منظوری دے دیتی ہے تو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں دائیں بازو کی اکثریت سے متعلق صدر ٹرمپ کی مہم کامیاب ہو جائے گی۔

بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ دو اہم سینیٹرز ری پبلیکن سوزین کولنز اور ڈیموکریٹ سینیٹر جو مینشن، نامزد جج کیونو کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر نامزد جج کیونو کے خلاف مظاہرہ۔ 4 اکتوبر 2018
سپریم کورٹ کے باہر نامزد جج کیونو کے خلاف مظاہرہ۔ 4 اکتوبر 2018

سینیٹ میں جج کی نامزدگی اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات پر کئی ہفتوں سے بحث جاری ہے۔ کیونو اور ان پر زمانہ طالب علمی کے دوران جنسی حملے کی کوشش کرنے کا الزام لگانے والی خاتون، جو اب یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، دونوں ہی سینیٹ میں پیش ہو چکے ہیں اور سوال جواب کے طویل اور کھٹن مرحلے سے گزر چکے ہیں۔

سینیٹ نے نامزدگی کی توثیق، الزامات سے متعلق ایف بی آئی کی تحقیقات تک ملتوی کر دی تھی۔

سینیٹر کولنز نے کہا ہے کہ کیونو کے متعلق ان کی رائے اس لیے تبدیل ہوئی ہے کیونکہ انہیں الزام لگانے والی خاتون ڈاکٹر فورڈ کی بات میں وزن نظر نہیں آتا۔

جب کہ سینیٹر مین شن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فورڈ نے جو کچھ کہا ہے، ممکن ہے ایسا ہوا ہو، لیکن حقائق یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ شخص کیونو ہی تھا۔

سینیٹ کے 100 ارکان کے ایوان میں ری پبلیکن کو 49 کے مقابلے میں 51 ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور ان دو اہم سینیٹرز کی سوچ تبدیل ہو جانے کے بعد کیونو کی نامزدگی کی توثیق کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG