رسائی کے لنکس

بھارتی نژاد سینیٹر کمالہ ہیرس 2020 کی صدارتی دوڑ میں حصہ لیں گی


سنیٹر کمالہ ہیرس 2020 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر رہی ہیں۔
سنیٹر کمالہ ہیرس 2020 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر رہی ہیں۔

ڈیموکرٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی بھارتی نژاد سینیٹر کمالہ ہیرس نے 2020 میں ہونے والی صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کےخلاف لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کمالہ ہیرس گزشتہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئی تھیں۔ وہ ریاست کیلی فورنیا کی سابق اٹارنی جنرل ہیں اور وہ صدر ٹرمپ کی نامزدگیوں پر شدید تنقید کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔

اس وقت تک ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدر ٹرمپ کے خلاف انتخاب لڑنے کے لئے کوئی متفقہ اُمیدوار سامنے نہیں آیا۔ تاہم متعدد ڈیموکریٹک ارکان نے انتخاب لڑنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان میں میساچیوسٹس سے سنیٹر الزبتھ وارن اور نیو یارک سے کرسٹن گیلی برینڈ شامل ہیں، جنہوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکانات کا جائزہ لینے کی خاطر کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ نیو جرسی سے سنیٹر کوری بوکر، اوہائیو سے شیرڈ براؤن اور منی سوٹا سے ایمی کلوبوچر بھی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ میں ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ کے سیکرٹری جولین کاسٹرو اور میری لینڈ سے کانگریس مین جان ڈیلینی بھی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

خیال ہے کہ ریاست ورمونٹ سے سینیٹر برنی سینڈرز، جنہوں نے 2016 کے صدارتی انتخاب کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں حصہ لیا تھا، لیکن ہلری کلنٹن کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، ایک بار پھر صدارتی اُمیدوار ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ سابق نائب صدر جوبائیڈن بھی انتخابی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ وہ ماضی میں دو مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

54 سالہ سینیٹر کمالہ ہیرس کے والد جمیکا سے ہیں، جبکہ اُن کی والدہ کا تعلق بھارت سے ہے۔ اگر بالفرض وہ صدر بننے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون صدر، پہلی ایشیائی نژاد صدر اور دوسری افریقی امریکی صدر ہوں گی۔

صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ دوسری مدت کے لئے انتخاب لڑیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے دور میں امریکی معیشت مضبوط ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دوسری مدت کے لئے بھی انتخاب جیت جائیں گے۔ تاہم حالیہ جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی مقبولیت میں 50 فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب کا مرحلہ خاصا طویل ہوتا ہے اور بیشتر اُمیدوار بہت پہلے ہی انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیتے ہیں تاکہ اُنہیں اپنی انتخابی مہم کے لئے مالی وسائل اور حمایت حاصل کرنے کے کی خاطر مختلف ریاستوں کے دوروں کے لیے معقول وقت مل جائے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی اُمیدواروں کا پہلا مباحثہ اس سال جون میں ہو گا۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے حتمی اُمیدوار کی نامزدگی کے لئے ابھی ایک سال کا وقت باقی ہے جبکہ صدر کا انتخاب 3 نومبر، 2020 کو ہو گا۔

XS
SM
MD
LG