رسائی کے لنکس

logo-print

بیٹی کے طفیل پاکستان آیا اور محبتوں نے خرید لیا، رضا مراد


رضا مراد کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتی ہے۔

”سن 80ء کی دہائی میں جب بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی تھیں، اس وقت بھارت کے پہلے خلاباز راکیش شرما کا خلا سے زمین پر پہلا رابطہ ہوا تو اندرا گاندھی نے ان سے پوچھا کہ ’وہاں سے بھارت کیسا لگ رہا ہے؟ اس پر شرما کا جواب تھا ”سارے جہاں سے اچھا۔۔۔“

” آپ سب کو پتہ ہے یہ شعر علامہ اقبال کا ہے۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خلا میں جو پہلا شعر پڑھا گیا وہ ایک پاکستانی شاعر کا تھا۔۔ خلا نورد ہندوستانی اور شعر پاکستانی۔۔ یہ دونوں ممالک کے باہمی پیار اور رشتے کی ایک جھلک تھی جو مجھے اس وقت صاف دکھائی دی۔۔“

ان خیالات کا اظہار بھارت سے آئے ہوئے سینئر اداکار رضا مراد نے پیر کو کراچی پریس کلب میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سمیت مقامی میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔

رضا مراد ان دنوں مختصر دورے پر کراچی میں ہیں۔ اپنی آمد کا ’اہم‘ سبب بتاتے ہوئے رضا مراد کا کہنا تھا کہ اس بار ان کی آمد بیٹی کے طفیل ہوئی ہے۔ "عائشہ کراچی آکر شاپنگ کرنے کی خواہش مند تھی اور بار بار اصرار کر رہی تھی۔ اس اصرار کے سبب ہی میں نے وعدہ کیا کہ اچھا بابا اب کے کراچی تمہارے بغیر نہیں جاوٴں گا اور یوں اس بار عائشہ میرے ساتھ ہے جبکہ میری اہلیہ لاہور میں اپنی ایک سہیلی کے یہاں مقیم ہیں۔ یہاں آیا تو پاکستانیوں کی محبت نے مجھے بے مول خرید لیا۔“

عائشہ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا، ”میرے والد کہتے ہیں کہ مہمان نوازی کے لئے اگر کسی کو اولمپک میڈل ملنا چاہیے تو پاکستان ہے۔ آج میں یہاں آکر اتنی خوش ہوں کہ اپنے والد کی بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ واقعی پاکستان کی مہمان نوازی، پاکستان کے عوام میڈل کے مستحق ہیں۔ اگر آج میں یہاں کھڑی ہوں تو اپنے والد کے پاکستان سے پیار کی بدولت ہوں۔ ہم نے پانچ مارچ کو ویزہ اپلائی کیا تھا جو آسانی سے مل گیا۔ “

رضامراد نے پاکستانی ٹی وی پروگرامز سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”صبح ہم لوگ ایک ٹی وی پروگرام میں شریک تھے، اس کے ذریعے ایک لڑکی کی شادی کے اخراجات کے لئے رقم اکٹھی کرنی تھی۔ پروگرام میں ہم نے کچھ سوالات کے جواب دینا تھے جتنے جواب درست دیے اس کے عوض اتنی انعامی رقم اس کی شادی کے لیے جمع ہوگئی۔ مجھے یہ بہت اچھا لگا۔ یہ نیکی کا کام بھی ہے۔ “

رضامراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ایک اور ٹی وی پروگرام میں شرکت کی تو یہ سن کر حیران رہ گئے کہ اس میں ان سے متعلق وہ معلومات بھی ناظرین سے شیئر کی گئیں جو ان کی 34 سالہ ازدواجی زندگی میں ان کی بیوی کو بھی معلوم نہیں۔ "حالانکہ کہ بیویاں سب کچھ جانتی ہیں۔ ان سے زیادہ ان کے شوہر کو کوئی اور نہیں جان سکتا لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس ٹی وی پروگرام میں جتنا میرے بارے میں بتایا گیا وہ میری بیوی بھی نہیں جانتی۔ مجھ سے پاکستانی عوام اتنی محبت کرتے ہیں یہ جان کر میں حیران رہ گیا۔“

رضامراد نے اس موقع پر پاکستانی عوام کی ان سے محبت کا احاطہ کرنے والی ساحرلدھیانوی کی ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی جس پر حاضرین نے خوب داد دی۔

رضا مراد کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتی ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”میں نریندر مودی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے دو گھنٹوں کے لیے ہی سہی لاہور آکر دونوں ممالک کی عوام کے دلوں کو ایک لڑی میں پرونے کی راہ ہموار کی۔“

رضا مراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی محبتوں کا میں قرض دار ہوں اور یہ قرض کبھی ادا نہیں ہوسکتا۔ مجھے امیدوں سے بڑھ کر اور اپنی بساط سے زیادہ پیار اور عزت و احترام ملا ہے۔

XS
SM
MD
LG