رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیرہ بگٹی: سابق عسکریت پسند کمانڈر پر حملہ، سات ہلاک


فائل فوٹو

سابق کمانڈر جب لاشوں اور زخمیوں کو گاڑی میں ڈال کر اسپتال منتقل کر رہے تھے تو اسی دوران اُن کی گاڑی راستے میں بچھائی گئی بارودی سُرنگ پر چڑھ گئی۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں تشدد کے دو تازہ واقعات میں سات افراد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے ٹوبہ نوتکانی میں کچھ عرصہ قبل ریاست کی عملداری تسلیم کرنے والے سابق بلوچ عسکریت پسند کمانڈر اسماعیل پہاڑی کے بھانجے گوجر بگٹی کے گھر میں جمعرات کی صبح نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور اہلِ خانہ پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

فائرنگ سے گوجر بگٹی، ان کی دو بیویاں اور ایک بچہ ہلاک اور دو بچے شدید زخمی ہوگئے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے سابق کمانڈر اسماعیل پہاڑی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔

سابق کمانڈر جب لاشوں اور زخمیوں کو گاڑی میں ڈال کر اسپتال منتقل کر رہے تھے تو اسی دوران اُن کی گاڑی راستے میں بچھائی گئی بارودی سُرنگ پر چڑھ گئی۔

بارودی سرنگ کے دھماکے سے دونوں زخمی بچے اور ایک اور شخص ہلاک جبکہ اسماعیل پہاڑی سمیت تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

واقعے کے بعد فرنٹیر کور اور لیویز حکام موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو سوئی میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے اسپتال منتقل کیا۔

بلوچستان کے صوبائی وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے صحافیوں سے گفتگو میں واقعے کا الزام نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی کے ساتھیوں پر عائد کیا ہے۔

لیکن صوبائی وزیرِ داخلہ کے دعوے کے برعکس تاحال واقعے کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

تاہم اس سے پہلے اس علاقے میں پیش آنے والے بیشتر حملوں اور پرتشدد واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ری پبلک آرمی قبول کرتی رہی ہے جس کی سربراہی مبینہ طور نوابزادہ براہمدغ بگٹی کے ہاتھ میں ہے۔

اس سے قبل بدھ کو نامعلوم افراد نے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے مرو میں سوئی گیس پلانٹ کو ایک ٹیوب ویل سے گیس فراہم کرنے والی 16 انچ کی پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑانے کی کو شش کی تھی جس سے پائپ لائن کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ تاہم دھماکے سے پلانٹ کو گیس کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG