رسائی کے لنکس

کوئٹہ: پولیس ٹرک پر خودکش حملہ، سات افراد ہلاک


فائل فوٹو

ڈاکٹروں کے بقول زخمیوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے جن میں سے چار کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں پولیس پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں سات افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق بلوچستان کانسٹیبلری کا ایک ٹرک بدھ کی صبح 28 اہلکاروں کو لے کر سریاب کے تر بیتی مر کز جارہا تھا کہ نیو سریاب کے علاقے میں جب ٹرک ایک اسپیڈ بریکر پر آہستہ ہوا تو اسی اثنا میں ایک شخص نے باردودی مواد سے بھری اپنی گاڑی ٹرک سے ٹکر ا دی۔

دھماکے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ علاقہ شہر سے دو ہونے کے باعث امدادی سر گرمیاں تاخیر سے شروع کی گئیں اور آگ پر قابو پانے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو کو ئٹہ کے سول اسپتال اور ملٹری اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈاکٹروں کے بقول زخمیوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے جن میں سے چار کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

بم ڈسپوزل حکام کے مطابق دھماکے میں لگ بھگ 100 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے۔

تحریکِ طالبان نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ اس کے خود کش بمبار نے یہ حملہ حکومت کی جانب سے جعلی مقابلوں میں بے گناہ قیدیوں کے مبینہ قتل کا انتقام لینے کے لیے کیا ہے۔

اس سے پہلے کو ئٹہ میں ہونے والے بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری ایک کالعدم مذہبی تنظیم 'لشکر جھنگوی العالمی' قبول کر تی رہی ہے جو داعش کی ایک اتحادی تنظیم قرار دی جاتی ہے ۔

حملے کے بعد جائے واقعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات لیے لاہور سے فرانزک ٹیم طلب کی گئی ہے۔

دریں اثنا سریاب ہی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے اسپیشل برانچ کے ایک افسر انسپکٹر عبدالسلام کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

ملزمان واقعے کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

اس سے قبل رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں بھی بلوچستان کے ضلعے جھل مگسی کے شہر گنداواہ میں ایک درگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG