رسائی کے لنکس

logo-print

چلاس میں مبینہ عسکریت پسندوں سے جھڑپ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

گللگت بلتستان کے علاقے چلاس میں پیر اور منگل کی درمیانی شب انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مبینہ عسکریت پسندوں سے مقابلے میں پانچ اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

چلاس کے گاؤں رونئی میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انسداد دہشت گردی پولیس کےاہلکاروں نے خفیہ اطلاع پر ایک گھر پر چھاپہ مارا۔

مبینہ عسکریت پسندوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں گھر میں موجود عسکریت پسندوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں تفصیلات سامنے نہ آ سکیں۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی پولیس کے اہلکاروں کو اطلاع ملی تھی کہ رونئی گاؤں کے ایک مکان میں بڑی تعداد میں جدید اور خود کار اسلحہ دہشت گردی کے مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہے اور یہاں دہشت گردی میں ملوث مطلوب افراد بھی روپوش ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چھاپہ مارنے کے بعد مذکورہ گھر سے مزاحمت شروع ہوئی۔ جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار اور دو شہری مارے گئے۔

فیض اللہ فراق کے مطابق تین سیکیورٹی اہلکار فائرنگ سے زخمی بھی ہوئے۔ جنہیں دیامیر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے بھی نوٹس لیا ہے اور مبینہ عسکریت پسندوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے جب کہ مبینہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ جس کا افتتاح چند ہفتے قبل وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ ایسے میں سیکیورٹی حکام اس کارروائی کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

پولیس حکام نے مذکورہ گھر سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تاہم اس کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG