رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: آکسیجن نہ ملنے سے مریضوں کی اموات، اسپتال کے سات افسران معطل


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث سات مریضوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہے۔ تحقیقات کی روشنی میں اسپتال کے ڈائریکٹر سمیت سات افسران و اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے اسپتال کے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کردہ کمیٹی نے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ صوبائی حکومت کے حوالے کر دی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں معطل ہونے والوں میں اسپتال کے ڈائریکٹر طاہر ندیم خان سمیت سات افراد شامل ہیں۔ طاہر ندیم خان ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں خیبر ٹیچنگ اسپتال میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس کے بعد صوبائی وزیرِ صحت تیمور سلیم جھگڑا اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ اجلاس میں اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس قسم کی واقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے واقعے کی مفصل تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ ذمہ دار عناصر کی نشان دہی بہت ضروری ہے۔

کامران بنگش نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دس، دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق تفصیلی رپورٹ جمعے تک مکمل کی جائے گی اور اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش نے پیر کو ہی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ خیبر ٹیچنگ اسپتال واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ 48 گھنٹوں کے بجائے چوبیس گھنٹوں میں ہی مکمل کر کے حکومت کے حوالے کی گئی۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کے علاوہ گیس کمپنی 'آپ پاکستان' کو بھی موردِ الزام ٹھیرایا گیا ہے جس نے چار دسمبر کو دس ہزار کیوبک میٹر کے بجائے صرف 3040 کیوبک میٹر گیس فراہم کی تھی۔

اسپتال کے ترجمان کے مطابق متعلقہ کمپنی کی جانب سے بر وقت گیس فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے واقعہ پیش آیا۔

دوسری جانب تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیس کمپنی 'آف پاکستان' کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی میعاد رواں برس جون میں ختم ہو گئی تھی جس کے بعد کمپنی کے ساتھ گیس کی سپلائی جاری رکھنے کی تفصیلات کا کوئی ذکر نہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن گیس کے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے ماہر عملہ بھی موجود نہیں اور وقوعہ کے روز گیس پلانٹ کے انجینئرز اور دیگر عملہ بھی غیر حاضر تھا۔

اسی طرح تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے شعبے کے نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی شب خیبر ٹیچنگ اسپتال کے آئسولیش وارڈز میں 90 مریض داخل تھے اور جب آکسیجن کی کمی کا معاملہ سامنے آیا تو 13 مریضوں کو ایمرجنسی وارڈز اور دیگر کو دیگر مختلف وارڈز میں منتقل کیا گیا۔

اسپتال کے ترجمان نے اس واقعے میں آکسیجن نہ ملنے کے باعث چھ جب کہ صوبائی مشیر برائے اطلاعات نے سات افراد کے ہلاک ہونے کا بتایا ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے منتقل کیے جانے والے مریضوں میں سے کئی ایک دیگر اسپتالوں میں بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے رواں ماہ کے آغاز پر ہی آکسیجن کی کمی کی شکایت کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG