رسائی کے لنکس

ترکی کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کے دوران اس کے سات فوجی ہلاک ہوگئے جو کہ ایسی کارروائیوں میں کسی ایک ہی دن میں اس کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

ہفتہ کو عفرین کے علاقے میں پانچ ترک فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا ٹینک ایک حملے کی زد میں آ گیا۔ مزید دو فوجی سرحدی علاقے میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے۔

ترک حکام کے مطابق جوابی کارروائی کرتے ہوئے لڑاکا طیاروں نے اس علاقے میں کرد اہداف کو نشانہ بنایا جہاں سے ٹینک پر حملہ کیا گیا تھا۔

ترکی نے گزشتہ ماہ شام میں کرد فورسز 'وائے پی جی' کے خلاف آپریشن 'اولیو برانچ' کے نام سے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ انقرہ اس گروپ کو علیحدگی پسندوں کا حامی تصور کرتے ہوئے دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

اب تک اس آپریشن کے دوران مارے جانے والے ترک فوجیوں کی تعداد 14 ہو چکی ہے۔

ترک صدر کے ایک ترجمان ابراہیم کالن نے ہفتہ کو کہا کہ ترکی کسی بھی صور شام کے سرحد پر اس گروپ کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا۔

ترکی ان علاقوں سے کرد ملیشیا کا نکالنا چاہتا ہے جہاں وہ 2012ء سے تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان کارروائیوں سے "دہشت گرد پٹی" کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ سمیت فرانس اور دیگر مغربی ممالک ترکی پر تحمل اور برداشت سے کام لینے پر زور دیتے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG