رسائی کے لنکس

بلوچستان: چمن میں دو دھماکے، سات افراد زخمی


چمن کے مقام پر واقع پاک افغان سرحدی گزرگاہ کا منظر (فائل فوٹو)

دھماکے کے بعد جب پولیس، ایف سی اور شہری جائے واقعہ پر جمع ہوئے تو اسی اثنا میں ٹائمر ڈیواس کے ذریعے دوسرا ددھماکہ ہوا جس سے پولیس کے دو اور ایف سی کا ایک جوان اور تین مزید شہری زخمی ہوگئے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بارودی مواد کے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ پہلا دھماکہ پیر کو چمن بازار میں پاک افغان سرحد کی طرف جانے والے مال روڈ پر واقع خفیہ ادارے (اسپیشل برانچ) کے دفتر کے قریب ہوا۔

پولیس کے مطابق بارودی مواد دفتر کے ساتھ پڑے ہوئے بجری کے ڈھیر میں چھپایا گیا تھا جس میں ٹائمر ڈیوائس کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔

دھماکے سے ایک راہ گیر زخمی ہوا۔ دھماکے کے بعد جب پولیس، ایف سی اور شہری جائے واقعہ پر جمع ہوئے تو اسی اثنا میں ٹائمر ڈیواس کے ذریعے دوسرا دھماکہ ہوا جس سے پولیس کے دو اور ایف سی کا ایک جوان اور تین مزید شہری زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو چمن کے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دو کی حالت نازک بتائی ہے۔

دھماکوں سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ دو گاڑیوں، ایک رکشے اور کئی موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکوں کے بعد شاہراہ کو بند کر کے سیکورٹی فورسسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

گزشتہ سال یکم دسمبر کو بھی چمن بازار میں عیسائی برادری کی ایک کالونی میں دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک بچہ ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

اس سے قبل جولائی میں چمن، قلعہ عبداللہ پولیس کے سربراہ ساجد خان مومند سمیت تین افراد ایک خودکش حملے میں اور اس کے بعد اسی ماہ میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں چار افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

چمن میں ماضی میں سکیورٹی فورسز پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں جن میں سے بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

چمن بازار پاک افغان سرحد سے صرف چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی آبادی تقریباً چار لاکھ ہے۔ اس سرحدی شہر میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھی قیام پذیر ہے۔

یہ بلوچستان کا ایک تجارتی شہر ہے جہاں سے نہ صرف افغانستان بلکہ بعض اوقات وسطی ایشیا کے دیگر ممالک بشمول تاجکستان اور ازبکستان کو بھی خوراک اور دیگر اشیا کی ترسیل ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG