رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: مسجد میں دھماکے سے کم ازکم 17 افراد ہلاک


ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں آگ سے جھلسنے والے افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک مضافاتی علاقے میں مسجد میں گیس پائپ لائن لیک ہونے سے دھماکے سے کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حکام نے مسجد کے ہال میں موجود افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق جمعے کی شام ہونے والے دھماکے کی وجہ گیس کی پائپ لائن کا لیک ہونا ہے۔

مقامی اخبار 'ڈھاکہ ٹربیون' کی رپورٹ کے مطابق 26 افراد آگ کی زد میں آ کر بری طرح جھلس گئے۔ جنہیں علاج کے لیے شیخ حسینہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری میں داخل کرایا گیا ہے۔

فتح اللہ پولیس اسٹیشن کے انچارج اسلم حسین نے میڈیا کو بتایا کہ شعلوں کی لپیٹ میں آ کر زخمی ہونے والے افراد کے بدن کم ازکم 60 تسے 70 فی صد تک جل گئے ہیں۔

نارائن گنج فائر اسٹیشن کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبداللہ العارفین نے بتایا ہے کہ بظاہر مسجد کے گراؤنڈ فلور میں نصب تمام چھ ایئر کنڈیشنرز پھٹ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر اسٹیشن کے عہدے داروں کے خیال میں دھماکہ گیس کی پائپ لائن لیک ہونے سے ہوا۔ چوں کہ کھڑکیاں بند تھیں اس لیے لیک ہونے والی گیس ہال کے اندر جمع ہو گئی۔

فائر اسٹیشن کے عہدے داروں کا خیال ہے کہ جمع شدہ گیس میں دھماکہ اس وقت ہوا جب کسی شخص نے اے سی یا پنکھا چلانے کے لیے سوئچ آن کیا جس سے پیدا ہونے والی چنگاری سے گیس میں دھماکہ ہو گیا۔

حکام نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

گزشتہ سال فروری میں ڈھاکہ کے ایک قدیم مضافاتی علاقے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھنے سے 71 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے ایک ماہ بعد ڈھاکہ میں ہی ایک 22 منزل کمرشل عمارت میں آتش زدگی 25 افراد کی جانیں لینے کا سبب بن گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG