رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں ڈیڑھ درجن لاپتہ افراد گھروں کو واپس پہنچ گئے


فائل فوٹو

بلوچستان کی صوبائی حکومت اور وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کے در میان گزشتے ہونے والے ایک معاہدے کے بعد تقریباً ایک ہفتے میں ڈیڑھ درجن نوجوان اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں جس کی تصدیق وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کی تنظیم کے رہنماؤں نے وائس آف امر یکہ کو کی ہے۔

جبر ی طور لاپتہ کئے جانے والے بلوچ نوجوانوں کا مسئلہ تقریباً بیس سال سے ہر حکومت کے دور میں سر فہرست رہا ہے اور ان نوجوانوں کی بازیابی کےلئے وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کی تنظیم اور دیگر قوم پرست سیاسی جماعتیں مختلف پلیٹ فارمز پر آواز بھی اٹھاتی رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے بلوچستان کی صوبائی حکومت کی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز تنظیم کے رہنماؤں کے ساتھ ایک مشتر کہ پریس کانفرنس کے بعد اب صوبے کے مختلف علاقوں سے لاپتہ کئے جانے والے لگ بھگ ڈیڑھ درجن سے زائد نوجوان اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔

وائس آف بلوچ مسنگ پرسن کے نائب چیئرمین ماما قدیر بلوچ۔ فائل فوٹو
وائس آف بلوچ مسنگ پرسن کے نائب چیئرمین ماما قدیر بلوچ۔ فائل فوٹو

وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کے نائب چئیر مین ماما قدیر بلوچ نے اتوار کو وائس آف امر یکہ کو لاپتہ نوجوانوں کی اپنے گھروں کو واپسی کی تصدیق کر تے ہوئے بتایاکہ گوادر، تربت، ڈیرہ بگٹی، خاران اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کے رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے ایک مشتر کہ پریس کانفرنس کے موقع پر کہا تھا کہ جبری طور پر لاپتہ کئے جانے والے نوجوانوں کو بازیاب کرانے کے لئے حکومت کو دو ماہ کا وقت دیا جارہا ہے اور اس مقصد کےلئے لگایا گیا کیمپ بھی فی الحال معطل کیا جارہا ہے۔ تاہم ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ کیمپ بدستور جاری ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کے رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران جو وعدے کئے تھے وہ تاحال پورے نہیں ہوئے۔ اس لئے سخت سردی، بارش اور برف باری میں کیمپ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بلوچ قوم پرست رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عیدالفطر سے لے کر اب تک 340 کے قریب لاپتہ نوجوان اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔ لیکن دوسر ی طرف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں کے بقول 25 جو لائی کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے دور میں تین سے زائد نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ بھی کیا گیا ہے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی پاکستان تحر یک انصاف کی حکومت کی حمایت کے لئے جو شرائط پیش کی تھیں اُن میں دیگر پانچ نکات کے ساتھ بلوچستان سے جبری طور لاپتہ کئے گئے افراد کی بازیابی کا نکتہ بھی شامل تھا۔ بی این پی کے رہنماؤں کا دعوٰی ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے 5000 نوجوانوں کو جبری طور لاپتہ کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG