رسائی کے لنکس

اسرائیل کا باقاعدہ جنگی کارروائی پر غور، غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 84 ہو گئی، سات اسرائیلی ہلاک


غزہ سٹی میں واقع الولید بلڈنگ سے دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ اس عمارت کو جمعرات کو علی الصبح فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

حماس اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی درمیان چار روز سے جاری لڑائی میں اب تک اٹھارہ بچوں سمیت 84 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حماس کے حملوں میں اب تک سات اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیل کے فوجی کمانڈر ایک جنگی منصوبے کا نقشہ تیار کر رہے ہیں۔

آئی ڈی ایف کے ترجمان ہدائی زلبرمین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں زمینی حملے کے امکانات کی تیاری ہو رہی ہے۔ اسرائیلی محکمہ دفاع نے اپنی فوج کے 80 پیرا ٹروپر بریگیڈ، گولانی انفینٹری بریگیڈ اور سیونتھ آرمرڈ بریگیڈ سے مزید فوجیوں کو غزہ کی سرحد پر تعینات کر دیا ہے۔ ان دستوں کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سے لیس کیا گیا ہے۔

حماس کے کنٹرول والے علاقوں پر اگر حملے کا فیصلہ ہوتا ہے، تو سال دو ہزار چودہ کے بعد فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی یہ پہلی زمینی کارروائی ہو گی۔

خبر رساں اداے، رائٹرز نے حماس کی وزارت صحت کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں جمعرات علی الصبح تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 83 ہو چکی تھی، جس میں 17 بچے میں شامل ہیں۔

بدھ کے روز سے اب تک متعدد بار فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر راکٹ برسانے کا عمل جاری رکھا ہے، جب کہ جوابی کارروائیوں میں اسرائیل نے کئی بار مغربی کنارے میں واقع مقبوضہ علاقے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فلسطینی بچوں میں وہ بھی شامل ہیں جو حماس کے ان راکٹوں کی زد میں آئے، جو سرحد پار اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے غزہ ہی میں گئے۔

فلسطینی وزارت صحت نے جمعرات کو بتایا کہ 487 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر اسرائیلی حکام کے مطابق، سات اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک چھ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ داغے جا رہے ہیں۔ 10 مئی 2021
حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ داغے جا رہے ہیں۔ 10 مئی 2021

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی تین بڑی فضائی کمپنیوں امریکن ایئرلائنز، یونائٹڈ ایئرلائنز اور ڈیلٹا ایئرلائنز نے اسرائیل فلسطینی تنازعے کے پیش نظر اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

اس سے قبل، اسرائیلی فضائی طیاروں نے غزہ کو نشانہ بنایا، جب کہ فلسطینیوں نے غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے، جن میں سے کچھ تل ابیب کے مرکزی ہوائی اڈے پر گرے۔

امریکہ کی یونائٹڈ ایئرلائنز نے ہفتے کے دن شکاگو، نیوآرک اور سان فرانسسکو سے اپنی پروازیں منسوخ کیں۔ ایک ترجمان نے بتایا کہ 25 مئی تک تل ابیب کے لیے ٹکٹ بک کرانے والے مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی بکنگ منسوخ کرائیں، جو اس میعاد کے بعد بغیر اضافی رقم ادا کیے کارگر رہیں گی۔ امریکن ایئر لائن نے بدھ اور جمعرات کو تل ابیب کے لیے اپنی نیویارک کی فلائیٹ منسوخ کی تھی، اور متاثرہ مسافروں کو بعد میں سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

شکاگو میں فلسطینی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 12 مئی 2021
شکاگو میں فلسطینی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 12 مئی 2021

اطلاعات کے مطابق، بدھ کے روز شکاگو کے مرکزی کاروباری علاقے کو سینکڑوں افراد کی جانب سے مظاہرے کے بعد بند کر دیا گیا۔ مظاہرین غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

مظاہرین کا تعلق شکاگو کے برج ویو علاقے سے تھا جہاں کافی فلسطینی آباد ہیں۔

امریکی فلسطینی کمیونٹی تنظیم کے سربراہ حاتم عبدالحئی نے این بی سی شکاگو کو بتایا کہ ''ہمارے لیے نیوز چینلز پر خبریں سننا مشکل ہو گیا ہے کہ ہمارے خاندانوں اور احباب پر کیا گزر رہی ہے''۔

اس سے قبل حماس نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ غزہ سٹی میں اسرائیل کی کارروائی میں ان کے ملٹری آپریشنز کے لیڈر باسن عیسیٰ سمیت کئی دیگر عسکری حکام ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی انٹرنل سیکیورٹی ایجنسی نے بھی کہا ہے کہ فضائی حملوں میں مارے جانے والوں میں باسن عیسیٰ کے علاوہ حماس کے انجینئرنگ چیف اور سائبر وارفیئر اور راکٹ ڈویلپمنٹ کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں حماس کے مجموعی طور پر 16 کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

یہودی آبادکاروں کی جانب سے یروشلم کے قریبی علاقے شیخ جراح میں عرب زیرِ کنٹرول کمیونٹیز پر قبضہ کرنے کی کوشش اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی جانب سے عبادت کرنے والوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور گرنیڈ پھینکنے کے واقعات حالیہ کشیدگی کی وجہ بنے ہیں۔

حماس نے اسرائیل کو مسجد اقصیٰ سے فورسز کو نکالنے کے لیے الٹی میٹم دیا تھا جس کے بعد پیر کو غزہ سے یروشلم پر راکٹ فائر کیے گئے۔

حماس اور اسرائیل کی جھڑپوں پر عالمی ردِ عمل

مغربی کنارے میں عرب شہریوں کے اسرائیلی فورسز کے خلاف احتجاج اور جھڑپوں کے بعد امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بن یامین گینتز سے بدھ کو رابطہ کیا۔

بعدازاں پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا کہ وزیرِ دفاع نے اسرائیل کے قانونی حقِ دفاع کی حمایت کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لائیڈ آسٹن نے حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

بیان میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ فریقین امن کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے بھی اسرائیلی شہریوں پر حماس کے راکٹوں حملوں کی مذمت کی ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں اینٹنی بلنکن نے کہا کہ انہوں نے موجودہ صورتِ حال پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور فلسطینیوں کو بھی تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

جرمنی کے وزیرِ انصاف کرسٹن لیمبرچٹ نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمنی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے جسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب ایردوان نے روسی ہم منصب ولادی میر پیوتن سے بات کرتے ہوئے فلسطینیوں کی حمایت میں بات کی۔

ایردوان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر حملہ کرنے کے جواب میں عالمی برادری کو اسرائیل کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمراں خان بھی فلسطینیوں اور غزہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG