رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت منظور


شاہ محمود قریشی ، عمران خان کے ساتھ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران۔ اگست 2017

تحریک انصاف کے دیگر راہنما اسد عمر، شیریں مزاری ، شفقت محمود اور عارف علوی بھی 9 فروری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ان چاروں مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ حملہ کیس سمیت 4 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 15 فروری کو ایس ایس پی تشدد کیس جبکہ 26 فروری کو پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں طلب کرلیا ہے۔ تحریک انصاف کے دیگر مرکزی 9 فروری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس سمیت 4 مقدمات میں نامزد ملزم پی ٹی آئی راہنما شاہ محمود قریشی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شاہ محمود قریشی کی 8 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی اور 9 فروری کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ، ایس ایس پی تشدد کیس سمیت چار مقدمات میں نامزد ملزم ہیں۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین عمران خان کو 15 اور 26 فروری کے لئے طلبی کے سمن جاری کردیے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے سمن جاری کیے۔ پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان 26 فروری جبکہ ایس ایس پی تشدد کیس میں 15 فرور کو پیش ہوں گے۔ پولیس نے گزشتہ روز ملزم عمران خان کے خلاف مقدمات میں عبوری چالان داخل کیا تھا۔ عدالتی نوٹس پر عمران خان کی بنی گالہ کی رہائش گاہ کا ایڈریس درج ہے۔

پولیس کی جانب سے پیش کیے جانے والے چالان میں پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف 14 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی اور دیگر پولیس اہل کاروں پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چالان کا حصہ ہے۔

تحریک انصاف کے دیگر راہنما اسد عمر، شیریں مزاری ، شفقت محمود اور عارف علوی بھی 9 فروری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ان چاروں مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین کے خلاف اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ اور سرکاری ٹی وی، پاکستان ٹیلی ویژن پی ٹی وی پر حملے سمیت سینیر سپرنٹنڈنٹ پولیس ایس ایس پی اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو کو زخمی کرنے کے الزامات کے تحت متعدد مقدمات درج ہیں۔

2014 میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے یکم ستمبر کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی تھیں۔

حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ اور سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر حملے سمیت سینیر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG