رسائی کے لنکس

logo-print

پارٹی کارکنوں کی ’’غیر قانونی‘‘ پکڑ دھکڑ جاری ہے: شہباز شریف


پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے نگران وزیرِاعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کو خط لکھا ہے جس میں کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہباز شریف نے چٹھی میں لکھا ہے کہ ’’لاہور سمیت پنجاب بھر میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر غیر قانونی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ پولیس اور انتظامیہ ان کے کارکنوں کو ہدف بنا رہی ہے‘‘۔

شہبار شریف کے بقول، ’’گرفتار کارکنوں کو وجہ بتائے بغیر جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیجا جا رہا ہے، جو کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہٴ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن جمہوری اخلاقیات کے منافی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’مسلم لیگ ن کے خلاف کریک ڈاؤن پری پول رگنگ کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق، خط کی ایک کاپی الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دی گئی ہے۔

اس سے قبل ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، شہباز شریف نے کہا کہ ’’پولیس نگران وزیر اعلیٰ اور دیگر کی ہدایت پر ان کے کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے اور یہ گرفتاریاں انتخابات سے قبل دھاندلی ہے‘‘۔

بقول اُن کے، “انتظامیہ اور پولیس کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ظلم و زیادتی روک دیں۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ جب ہماری حکومت آئے گی تو آپ کے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے، بلکہ انصاف کے کٹہرے میں لے کر آئیں گے”۔

شہباز شریف نے کہا کہ جمعے کی شام نواز شریف کے استقبال کا پروگرام پرُامن ہوگا، ’’اس کے باوجود، کارروائیوں کا مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے۔ عمران خان لاہور میں جلسہ کر رہے ہیں؛ جب کہ ہمارے لیے دفعہ 144 نافذ ہے‘‘۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی سابق صدر اور سابق وزیر اعظم جمعہ کی شام لندن سے لاہور ائیرپورٹ پہنچیں گے۔ جس کے لیے، بتایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کے کارکنوں نے ائیرپورٹ پر اپنے قائد کے استقبال کے لیے جانے کا پروگرام تیار کیا ہے۔

کارکنوں کو روکنے کے لیے پنجاب پولیس نے لاہور شہر میں چند مقامات پر کنٹینر پہنچا دئیے ہیں تاکہ ائیرپورٹ جانے والے تمام راستوں کو بند کیا جا سکے۔ دوسری جانب صوبے کے دیگر شہروں سے مسلم لیگ کے کارکنوں کے قافلے روکنے کے لیے جی ٹی روڈ اور موٹروے پر بھی کنٹینر پہنچا دئیے گئے ہیں۔ ’پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی‘ کی جانب سے جمعہ کے روز شہر بھر میں میٹرو بس سروس سمیت دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، سرکاری اطلاعات کے مطابق، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو گرفتار کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے ہیلی کاپٹر مانگ لیے ہیں، جبکہ ائیر پورٹ کی حفاظت پنجاب رینجرز کے حوالے کر دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG