رسائی کے لنکس

logo-print

شاہد آفریدی اور کشمیر


فائل

پاکستان کے سابق کرکٹر شاہد آفریدی کسی نہ کسی حوالے سے خبروں میں رہتے ہیں۔ حال ہی میں کشمیر کے بارے میں اُن کی ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں اُنہوں نے کشمیر کے حوالے سے ایک ایسا بیان دیا ہے جس پر پاکستان اور بھارت میں بحث کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس ویڈیو میں ’بوم بوم آفریدی‘ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’’پاکستان کو کشمیر نہیں چاہئیے۔ بھارت کو بھی کشمیر نہ دیں۔ پاکستان سے تو اپنے چار صوبے بھی سنبھل نہیں رہے ہیں۔ کشمیر اپنا ایک الگ ملک بنے۔ انسانیت تو زندہ رہے۔‘‘

اُن کے بیان کو بھارتی میڈیا میں بھی نمایاں جگہ دی گئی۔ اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ نے لکھا کہ شاہد آفریدی نے کشمیر کے بارے میں ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہئیے کہ وہ کشمیر کو آزاد ملک بننے دے، کیونکہ پاکستان سے اُس کے اپنے چار صوبے بھی سنبھل نہیں رہے۔

شاہد آفریدی نے اس سے پہلے اس سال اپریل میں بھی کشمیر کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک بیان دیا تھا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ ’’بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صورت حال بہت دلخراش ہے۔ وہاں استصواب رائے اور آزادی کی آوازوں کو غاصب حکومت نے دبا دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے کہاں ہیں اور وہ وہاں بہائے جانے والے خون کو کیوں نہیں روکتے۔‘‘

سچن ٹنڈلکر، کپل دیو، گوتم گھمبیر، شکھر دھون اور وراٹ کوہلی سمیت بھارت کے متعدد کرکٹرز نے شاہد آفریدی کے اس بیان کی پر زور مذمت کی تھی۔

تاہم، شاہد آفریدی نے اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے کہا تھا کہ اُنہیں اپنے بیان کے خلاف کسی بھی شخص کی طرف سے تنقید کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ اُن کے خیال میں اُنہوں نے بالکل درست بات کی ہے اور اُنہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔

بھارتی میڈیا ویب سائٹ ’این ڈی ٹی وی‘ نے لکھا ہے کہ 38 سالہ پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی نے کشمیر کے بارے میں متنازعہ بیان دے کر اپنے ملک کی حکومت کو شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔

شاہد آفریدی نے یہ بیان برطانوی پارلیمان میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

اپنے حالیہ بیان پر دوبارہ ٹویٹ کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے اُن کے بیان کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں بہت جذبہ رکھتے ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد کی بہت قدر کرتے ہیں۔ انسانیت کو اہمیت دینی چاہئیے اور کشمیریوں کو اُن کا حق ملنا چاہئیے۔

شاہد آفریدی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا، ’’میرا کلپ نامکمل ہے اور میں نے جو کہا اسے سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا۔ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے اور یہ بھارت کے ظالمانہ قبضے میں ہے۔ اسے ہر صورت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئیے۔ میں اور تمام پاکستانی لوگ کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کا ہے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG