رسائی کے لنکس

'شاہ زیب قتل کیس میں سول سوسائٹی کیسے متاثرہ فریق ہے؟'


شاہ زیب کے قتل کے خلاف سول سوسائٹی کا مظاہرہ، فائل فوٹو

سال 2012ء میں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پولیس آفیسر اورنگزیب کے جوان سال بیٹے شاہ زیب کو جھگڑے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں شاہ زیب کے والدین اپیل میں آنے کا حق رکھتے تھے۔ سول سوسائٹی کیسے متاثرہ فریق ہو سکتی ہے۔ کسی این جی او کا نام نہیں لے رہے۔ ایسا نہ ہو کل ہر این جی او پلے کارڈ اٹھا کر سڑک پر بیٹھ جائے۔ ہر شخص یا این جی او کو اجازت دی تو فریقین کے استحصال کا خدشہ ہے۔

کراچی میں معمولی جھگڑا کے بعد قتل ہونے والے شاہ زیب قتل کیس میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرکے سپریم کورٹ اور انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلوں کو مدنظر نہیں رکھا۔

سپریم کورٹ میں شاہ زیب قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور سجاد تالپور کو پیش کیا گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی ہو تو سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ عدالت کیس کے میرٹ کو نہیں دیکھ رہی۔ عدالت نے یہ دیکھنا ہے کہ مقدمہ دہشت گردی کا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرکے معاملہ سیشن کورٹ کو بھیج دیا اور سپریم کورٹ اور انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلوں کو مدنظر نہیں رکھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے احکامات کو بائی پاس کیا۔ شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا جب کہ وکیل بابراعوان کو بھی کل پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

نومبر 2017 میں سندھ ہائی کورٹ نے شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور، سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ کی سزا کالعدم قرار دے دی تھی اور مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے مقدمہ ازسرنو سماعت کے لئے سیشن عدالت میں بھیج دیا تھا جس نے ملزمان کی ضمانت منظور کرکے انہیں رہا کردیا تھا۔

سال 2012ء میں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پولیس آفیسر اورنگزیب کے جوان سال بیٹے شاہ زیب کو جھگڑے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد ملزمان کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا تھا۔ سماعت کے دوران مقتول کے باپ نے قاتلوں کے گھر والوں سے صلح نامہ کرلیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے اسے قبول کرنے کے بجائے مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

ملزم شاہ رخ جتوئی ایک بااثر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کیس میں سماعت کے دوران میڈیا کے کیمروں کے سامنے وکٹری کا نشان بنا کر دکھاتا رہا جس پر سوشل میڈیا میں اس کیس کی بازگشت ایک طویل عرصہ سے لگاتار سنائی دے رہی ہے۔ اس کیس کی خاتمہ کے حوالے سے بھی مختلف چیزیں سامنے آئیں جن میں مقتول کے والدین کو دیت کے طور پر کروڑوں روپے اور بیرون ملک جائیدا د دیے جانے کا انکشاف کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG