رسائی کے لنکس

’شنگھائی تعاون تنظیم‘ کی مستقل رکنیت، تجزیہ کاروں کی رائے

  • بہجت جیلانی

تجزیہ کاروں نے اِس بات کی جانب توجہ دلائی ہے کہ پاکستان اور بھارت کو چاہیئے کہ اپنے مفادات کے لئے ’سارک‘ کے علاقائی پلیٹ فارم کو استعمال کریں

پاکستان اور بھارت کی شنگھائی تعاون تنظیم میں مستقل رکنیت اور اس کے اثرات کے بارے میں پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں پاکستان سے بریگیڈئر (ر) سعد نذیر، بھارت سے ڈاکٹر منیش کمار اور یہاں امریکہ سے رضا رومی نے رکنیت کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے اِسے ’’آگے کی جانب ایک مثبت قدم‘‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اِس وقت دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی انتہائی سنگین صورتحال کے پیش نظر، کسی بھی نوعیت کا رابطہ خوشکن ہے‘‘۔

تجزیہ کار کہتے ہیں ان دونوں جوہری صلاحیت کے حامل ہمسایہ ملکوں کو چاہئے کہ ’ایس سی او‘ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ’’سنجیدہ امور کے بارے میں ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ پاکستان اور بھارت کو چاہیئے کہ اپنے مفادات کے لئے علاقائی، سارک کے پلیٹ فارم کو استعمال کریں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اور روس کوشش کریں گے کہ یہ دونوں ملک اپنے پچیدہ امور کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں۔

بریگیڈئر سعد نذیر کہتے ہیں کہ اس رکنیت سے سیاسی، سفارتی اور سٹریٹجک سطح پر دونوں ملکوں کو رابطے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کو نیوکلر سپلائر گروپ کی رکنیت بھی ملنی چاہئے۔

تفصیل کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG