رسائی کے لنکس

logo-print

شرجیل خان نے اسپاٹ فِکسنگ پر غیر مشروط معافی مانگ لی


پاکستانی کرکٹر شرجیل خان نے اسپاٹ فِکسنگ کا اعتراف کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ وہ پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ کے دوران اسپاٹ فِکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔

شرجیل خان پر انسدادِ بد عنوانی کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی جس میں ڈھائی برس کی معطلی لازمی قرار دی گئی تھی۔

شرجیل خان نے اپنے معافی نامے میں کہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ، ساتھی کھلاڑیوں، کرکٹ شائقین اور اہلِ خانہ سے غیر مشروط طور پر معافی مانگتا ہوں کہ میرے غیر ذمّہ دارانہ عمل سے انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ مستقبل میں کبھی ایسی غیر ذمّہ داری کا مظاہرہ نہیں کروں گا۔

شرجیل خان نے اسپاٹ فکسنگ واقعے کے 2 سال بعد اپنے جُرم کا اعتراف کیا ہے۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر سکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن، لیفٹنٹ کرنل ریٹائرڈ آصف محمود کے مطابق شرجیل خان نے اپنے وکیل کے ہمراہ پی سی بی حکام سے ملاقات کی جس میں ان کی کرکٹ میں واپسی کا روڈ میپ ترتیب دیا گیا۔

اس حوالے سے پی سی بی نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بحالی پروگرام کے مطابق شرجیل خان کو اینٹی کرپشن کوڈ پر لیکچرز اٹینڈ کرنا ہوں گے اور دیگر کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف کے ساتھ ایک نشست کا بھی اہتمام کرنا ہو گا۔

کرکٹر شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجاز نے میڈیا کو بتایا ہے کہ شرجیل پی سی بی کے بحالی پروگرام پر عمل کریں گے جو آج سے شروع ہو گیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے 2017 میں ہونے والے دوسرے ایڈیشن میں شرجیل خان اور خالد لطیف اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔

پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے شرجیل خان پر پانچ الزامات عائد کیے تھے اور انہوں نے پانچوں الزامات میں اپنے جُرم کا اعتراف کیا تھا۔

پی سی بی حکام کے مطابق دو سال کی سزا کے دوران شرجیل کا رویّہ اور سرگرمیاں مثبت رہی ہیں لہٰذا ان کی بقیہ سزا معطل کرتے ہوئے کرکٹ میں دوبارہ واپسی ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG