رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: شتروگن سنہا کا بی جے پی سے الگ ہونے کا عندیہ


شتروگن سنہا۔ فائل

شتروگن سنہا 19 مئی کو ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں پٹنا صاحب کے حلقے سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اُن کے مدمقابل یونین وزیر روی شنکر پرشاد ہوں گے جنہیں بی جے پی کی طرف سے پارٹی ٹکٹ ملنے کا امکان ہے۔

بھارت کے سابق معروف اداکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے لوک سبھا کے رکن شتروگن سنہا نے بی جے پی سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ وہ روایتی تہوار ہولی کے بعد جمعے کے روز اعلان کریں گے کہ وہ کس سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے۔

شتروگن سنہا 19 مئی کو ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں پٹنا صاحب کے حلقے سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اُن کے مدمقابل یونین وزیر روی شنکر پرشاد ہوں گے جنہیں بی جے پی کی طرف سے پارٹی ٹکٹ ملنے کا امکان ہے۔ سنہا اور شنکر دونوں کو سیاست میں بی جے پی کے سابق لیڈر لال کرشنا آڈوانی کا شاگرد سمجھا جاتا ہے۔

شتروگن سنہا گزشتہ دو برس سے اپنی جماعت بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور کھلے عام لوک سبھا میں حزب اختلاف کا ساتھ دیتے آئے ہیں۔

اُنہوں نے حالیہ دنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ریڈیو پر ملک بھر کے سیکورٹی گارڈز سے خطاب کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا، ’’جناب! چوکیداروں سے خطاب کرنے کے بجائے آپ اُن مسائل کے حل پر توجہ دیں جو عرصہ دراز سے حل طلب ہیں۔‘‘

شتروگن سنہا نے ایک ٹویٹ میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’آئیے ہم رفیل چور اور چوکیدار کھیلنے کے بجائے ہولی منائیں‘‘۔

پٹنا سے لوک سبھا کے رکن شتروگن سنہا نے گزشتہ دنوں کولکتہ اور دلی میں حزب اختلاف کے ساتھ انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے رفیل ڈیل کے حوالے سے وزیر اعظم مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

شتروگن سنہا پٹنا صاحب کے حلقے سے دو بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

سنہا کو عام طور پر ’بہاری بابو‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ وہ سابق بھارتی وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ اُس وقت بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا، یعنی راجیہ سبھا کے رکن تھے۔

شتروگن سنہا پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاالحق سے قریبی تعلق کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے ضیاالحق کے دور میں اُن کے ذاتی مہمان کی حیثیت سے متعدد بار پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں بھی کئی بار پاکستان آئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG