رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی یوکرین میں گولہ باری سے کم ازکم دس ہلاک


گزشتہ ماہ کیئف اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونٹسک میں ایک اسکول اور بس پر ہونے والی بمباری سے کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام اور عینی شاہدین کے مطابق ایک گولہ اسکول نمبر 57 کے کھیل کے میدان میں گرا۔ بدھ کو ڈونٹسک میں تعلیمی سال کا آغاز ہوا تھا اور اسکول کا پہلا دن تھا۔

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے حکام اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مرنے والوں میں اسکول کے دو اساتذہ اور بچوں کے والدین میں سے ایک شخص شامل ہے۔

بچے اس بمباری میں محفوظ رہے اور ان خوفزدہ بچوں کو بمباری سے بچانے کے لیے اسکول کے تہہ خانے میں منتقل کر دیا گیا۔

گزشتہ ماہ کیئف اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

ڈونٹسک میں کیئف کی حامی مقامی حکومت جو کہ اب ماریوپول شہر میں وقوع پذیر ہے، نے اسکول پر بمباری کا الزام روس نواز علیحدگی پسندوں "ڈونٹسک پیپلز ریپبلک" پر عائد کیا۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ " ڈونٹسک پیپلز ریپبلک نے اسکول پر حملے کے لیے راکٹ لانچر کا استعمال کیا۔۔۔ یہ گولے اسکول کی عمارت سے پانچ میٹر دور گرے۔"

تاہم باغیوں کا کہنا تھا کہ یہ گولے اس طرف سے داغے گئے جہاں سرکاری فوجی موجود ہیں۔

ڈونٹسک میں تعلیمی سال یکم ستمبر سے شروع ہوتا ہے لیکن علاقے میں جاری لڑائی کی وجہ سے اس میں ایک ماہ کی تاخیر ہوئی۔

اسکول کے قریب ہی ایک سڑک پر بس بھی اس گولہ باری کی زد میں آئی اور رائٹرز کے نامہ نگاروں نے وہاں چھ لاشیں دیکھیں۔

بعد ازاں سلامتی اور تعاون کی یورپی تنظیم کے مبصرین اور روس نواز باغیوں نے جائے وقوع کا معائنہ کیا۔

ڈونٹسک کی آبادی تقریباً دس لاکھ ہے اور یہ یوکرین میں باغیوں کے زیر تسلط سب سے بڑا شہر ہے۔

XS
SM
MD
LG