رسائی کے لنکس

logo-print

جاپان: متنازع جنگی یادگار کے لیے وزیر اعظم کا رسمی نذرانہ


وزیر اعظم کی طرف سے یہ نذرانہ دوسری عالمی جنگ سے قبل جاپان کی نو آبادیاتی جارحیت کا نشانہ بننے والے دو ممالک چین اور جنوبی کوریا میں کئی لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے کا امکان ہے۔

جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے نے ٹوکیو میں ایک یادگار پر نذرانہ بھیجا ہے جسے جاپان کے کئی ہمسایہ ممالک نوآبادیاتی دور کی علامت سمجھتے ہیں۔

ٹوکیو میں واقع یادگار کے عہدیداروں نے کہا کہ منگل کو بہار کے تین روزہ تہوار کے پہلے روز ایبے نے روایتی گملے والا پودا یاسوکونی یادگار پر بھیجا۔

وزیر اعظم کی طرف سے یہ نذرانہ دوسری عالمی جنگ سے قبل جاپان کی نو آبادیاتی جارحیت کا نشانہ بننے والے دو ممالک چین اور جنوبی کوریا میں کئی لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے کا امکان ہے۔

تاہم یہ نذرانہ بھیجنے کا مطلب ہے کہ ایبے شنتو کی یادگار پر جانے سے گریز کریں گے۔ بصورت دیگر ان کو زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا۔

وسطی ٹوکیو میں واقع یہ یادگار دوسری عالمی جنگ میں ہلاک ہونے والے 25 لاکھ جاپانیوں کی تکریم کرتی ہے۔

ایبے نے 2013ء میں اس یادگار پر حاضری دی تھی جس کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کے لیے قدرتی امر ہے کہ وہ ملک کے لیے جان دینے والوں کی تکریم کریں۔

کئی چینی اور جنوبی کورین اس حاضری کو اس بات کا ثبوت مانتے ہیں کہ ایبے کی قدامت پسند حکومت کو ان دو ممالک میں ہونے والے مظالم پر کوئی ندامت نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG