رسائی کے لنکس

logo-print

شیعہ عالم کی سزائے موت پر سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی


سعودی عرب کے روایتی حریف ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ شیخ نمر النمر کو سزائے موت دینے پر سعودی عرب کو ان کے بقول "انتقامِ الہی" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سعودی عرب میں معروف شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد خطے کی شیعہ آبادی والے ممالک میں کشیدگی اور سفارتی تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

سعودی عرب کے روایتی حریف ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ شیخ نمر النمر کو سزائے موت دینے پر سعودی عرب کو ان کے بقول "انتقامِ الہی" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انھوں نے اتوار کو کہا کہ " اس شہید کے خون ناحق کے بہت جلد نتائج سامنے آئیں گے۔"

ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ نمر کی موت سعودی عرب کی شہنشاہیت کے "زوال" کا سبب بنے گی۔ فوج نے نمر کو سزائے موت دیے جانے کو "قرون وسطیٰ کی بربریت" قرار دیا۔

ہفتہ کو سعودی عرب نے شیخ نمر سمیت 47 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا تھا۔ وہ سعودی شاہی خاندان کے ایک بڑے ناقد اور ملک کے مشرقی علاقوں میں شیعہ آبادی کے حق میں بلند آہنگ رہنما تھے۔

شیخ نمر کو 2014ء میں بغاوت اور دیگر جرائم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ شیعہ عالم کی سزائے موت پر عملدرآمد سے خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ "ہمیں خاص طور پر شیعہ عالم اور سیاسی کارکن نمر النمر کی سزائے موت پر تشویش ہے، ایک ایسے وقت جب کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے اس کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔"

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ انھیں نمر اور دیگر 46 افراد کو سزائے موت دیے جانے پر "شدید مایوسی ہوئی ہے اور انھوں نے اس کے ردعمل کے طور پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیعہ اکثریت والے ملک ایران نے متعدد بار سعودی عرب پر نمر کو معاف کرنے کی درخواست کی تھی لیکن اب سزائے موت کے بعد اس کی طرف سے سخت ترین ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

تہران میں وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے سعودی عرب پر خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، جو کہ انتہائی کٹڑ سنی نظریے جسے وباہیت کہا جاتا ہے، پر قائم ہوا، ایک ایسے "بھنور" کا سامنا کرے گا جس سے وہ بچ نہیں سکے گا۔

سعودی وزارت خارجہ کے ترجمان منصور بن ترکی نے ایران کے ردعمل کو "غیر ذمہ دارانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے اس سنگین ردعمل پر احتجاج کیا۔

بعد ازاں تہران میں مظاہرین کی طرف سے سعودی عرب کے سفارتخانے پر دھاوا بولنے کی کوشش بھی کی گئی اور یہاں فرنیچر کی توڑ پھوڑ کے بعد اسے آگ بھی لگا دی۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

اتوار کو حکام نے لگ بھگ 40 افراد کو سفارتخانے پر حملے کے شبہ میں گرفتار کیا ہے اور ان کے بقول تحقیقات کے بعد مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

لبنان میں ایک اہم شیعہ عالم نے نمر کی سزائے موت کے سنگین مضمرات کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ شیخ عبدالامیر قبلان کہتے ہیں کہ " آنے والے دنوں میں اس جرم کا ردعمل ہو گا۔"

شیخ نمر کی سزائے موت کے خلاف بحرین میں بھی مظاہرے ہوئے جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔ بھارت اور لندن میں بھی سعودی سفارتخانوں کے باہر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

XS
SM
MD
LG