رسائی کے لنکس

گڈانی شپ بریکنگ میں ڈھائی ماہ سے بھی کم عر صے میں تیسر ی مر تبہ جہاز توڑنے کے دوران آگ لگ گئی جس سے 3 مزدور ہلاک اور دو لاپتہ ہوگئے ہیں جن کو تلاش کیاجارہا ہے۔

ڈی سی لس بیلہ ذوالفقار شاہ نے وی او اے کو بتایا کہ پیر کو تقر یباً 60 سے زائد مزدور ایل پی جی لے جانے والے سمندری جہاز کو توڑنے کےلئے جہاز پر کام کر رہے تھے۔ کام کے دوران اچانک جہاز کے ایک حصے میں آگ لگ گئی اس دوران جہاز پر کام کر نے والے بیشتر مزدوروں نے جہاز سے سمندر میں چلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں جبکہ نیچلے حصے میں کام کرنے والے پانچ مزدور آگ کے شعلوں میں پھنس گئے جن میں سے تین کی لاشیں نکالی گئیں اور دو کو تلاش کیا جارہاہے۔

ڈی سی لس بیلہ ذوالفقارشاہ کے بقول جہاز پر آگ لگنے کے واقعہ کے بعد ٹھیکدار سمیت دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

گڈانی شپ بر یکنگ ایسوسی ایشن کے رہنما بشیر احمد محمود دانی نے جہاز توڑنے کے لئے کئے گئے حفاظتی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مناسب انتظامات کے بغیر کام شروع کرنے کی اجازت دینے والے متعلقہ محکمے کے افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ دو دنوں میں چھ اور اس سے پہلے 30 لاشیں ہمیں ملی ہیں ایسی صورتحال میں مزدور کیسے کام کر سکتے ہیں۔

گڈانی میں پرانے سمندر ی جہازوں کو توڑنے کی جنوبی ایشاء کی سب سے صنعت ہے جہاں گزشتہ سال نومبر میں جہاز توڑنے کے دوان ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی جس میں 26 مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے اور چار تاحال لاپتہ ہیں، اس سانحہ کے بعد حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر کے جہاز توڑنے پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم بعد میں جہاز توڑنے کی صنعت سے وابستہ بعض ٹھیکداروں نے مناسب حفاظتی انتظامات کر نے کی یقین دہانی پر بلوچستان ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا اور کام دوبارہ شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی جہاز توڑ نے کے دوران ایک جہاز میں آگ لگ گئی تھی تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، پیر کو اسی جہاز کو توڑنے کے کام کے آغاز کے تھوڑی دیر بعد آگ لگ گئی۔

XS
SM
MD
LG