رسائی کے لنکس

ڈرون حملے کی مذمت پر شیریں مزاری کی آرمی چیف پر تنقید


(فائل فوٹو)

​​شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ (پاکستانی فوج کے سربراہ) ہنگو میں ڈرون حملے کو محض غیر سود مند کہہ دیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی ایک مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے ضلع ہنگو میں رواں ہفتے ہونے والے امریکی ڈورن حملے کے بارے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ردعمل پر تنقید کی ہے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں ایک امریکی ڈرون حملے میں اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے دھڑے حقانی نیٹ ورک کا ایک کمانڈر ابوبکر مارا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جو ماضی میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی آئی ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے بدھ کو ایک بیان کہا تھا کہ ڈرون حملوں جیسے یک طرفہ اقدامات نقصان دہ اور جاری تعاون اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے جذبے کے منافی ہیں۔

شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ (پاکستانی فوج کے سربراہ) ہنگو میں ڈرون حملے کو محض غیر سود مند کہہ دیں۔

اُن کا ایک دوسری ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہماری فوج ہماری سرحد کی ہر طرح کے حملوں سے حفاظت کرے بمشول امریکی ڈرون حملوں سے۔

افغان سرحد سے ملحق وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ہنگو میں ہونے والا یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

تقریباً چار سال قبل نومبر 2013ء کو ہنگو میں ایک مدرسے کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں مشتبہ طور پر حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے آٹھ مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

اس میزائل حملے کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ میں برسراقتدار جماعت تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے سامان رسد کی ترسیل تقریباً تین ماہ تک بند کر دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG