رسائی کے لنکس

logo-print

'ایسی الفت ہو کہ روٹی سے کھاویں چاول'


خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری ہونے والی معروف فلم ڈائریکٹر اور لکھاری شعیب منصور کی تازہ میوزک ویڈیو 'دعائے ریم' سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' کی طرز پر شاعری پہ مبنی ویڈیو میں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان بطور دلہن مرکزی کردار ادا کرتی دکھائی گئی ہیں۔

میوزک ویڈیو میں ماہرہ خان کی شادی کی تقریب میں خواتین شوہر کی اطاعت سے متعلق 'لب پر آتی ہے' کی طرز پر لکھا گیا گانا گا رہی ہیں۔ جس پر ماہرہ خان اور ان کی سہیلیاں ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہیں۔

علامہ اقبال کی نظم میں رد و بدل کرتے ہوئے گائے گئے گیت کے پہلے حصے میں معمر خواتین اور خواجہ سرا بیاہی جانے والی ماہرہ خان کو دی جانے والی دعاؤں میں شوہر کی اطاعت کو بیوی کا ایمان قرار دیتی ہیں جب کہ شوہر کی صورت اور سیرت کی کبھی شکایت نہ کرنے کی تنبیہ کرتی ہیں۔ اسی طرح شوہر کے بھٹک جانے سے اندھیرا ہو جانے اور بیوی کی نیکیاں چمکنے سے اجالا ہوجانے کی دعائیں دی گئی ہیں۔

عمر رسیدہ خواتین اور گانے والیوں کی طرف سے دی گئی دعاؤں میں دلہن کو باور کرایا گیا ہے کہ اگر شوہر بیوی کو دھمکیاں دے تو بیوی کو تسلی ہونی چاہیے کہ اسے شوہر کی طرف سے صرف دھمکیاں دی گئی ہیں، تھپڑ نہیں مارا گیا۔ جب کہ اگر شوہر بیوی کو تھپڑ مار بھی دے تو اسے شکر ادا کرنا چاہیے کہ تھپڑ ہی پڑا ہے، جوتا نہیں۔

بیاہی جانے والی دلہن کو شوہر کے خلاف بغاوت سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے گانے میں لڑائی سے بچتے ہوئے گالیاں کھا کر بھی مسکرانا سیکھنے کا پیغام دیا گیا ہے۔

خاندان کی عمر رسیدہ عورتوں اور دیگر کے گائے جانے والے گانے کے دوران دلہن کے ساتھ بیٹھی ایک خاتون کو روتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو یقینی طور پر دلہن کی والدہ ہیں۔ دلہن کی والدہ اپنے خاندان کی معمر خواتین کی طرف سے دلہن کو شوہر کی اطاعت اور غلامی سے متعلق دی جانے والی دعاؤں پر پشیمان دکھائی دے رہی ہیں اور دعا میں گالیاں کھا کر بھی مسکرانے کی تنبیہ کرنے پر وہ اپنا منہ شرم سے چھپاتی دکھائی گئی ہیں۔

دوسری طرف دلہن کی سہیلیاں بھی ان دعاؤں پر ناراض ہوتی دیکھی جاسکتی ہیں۔

'دعائے ریم' کے ٹائٹل سے ریلیز کیے جانے والے گانے کے درمیان میں دلہن اپنی ماں کو شرم سے منہ چھپاتا دیکھ کر جذباتی ہوجاتی ہے اور کھڑے ہو کر اپنے خاندان کی عورتوں اور گانے والیوں کو 'بس' کرنے کا کہتی ہیں۔

میوزک ویڈیو کے دوسرے حصے میں دلہن باغیانہ طور پر اپنے لیے کی جانے والی دعاؤں کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اپنی شادی پر اپنے لیے خود دعا کرنے اعلان کرتی ہے جس پر خاندان کی معمر خواتین حیران ہو جاتی ہیں۔

دلہن ماہرہ خان کی دعا 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' کے بعد شوہر کے گھر میں اپنی حکومت سے شروع ہوتی ہے۔ جس کے بعد گھر میں بتی بجھانے سے اندھیرا ہوجانے اور بتی جلانے سے اجالا ہوجانے کی دعا کرتے ہوئے شوہر کے گھر میں بیوی کا کنٹرول ہونے کا پیغام دیا گیا ہے۔

بیوی کی شوہر سے محبت کو ایمان قرار دیتے ہوئے میوزک ویڈیو کے دوسرے حصے میں شوہر سے شکایت ہونے پر میکے میں جاکر شکایت کرنے کے بجائے بیوی سے اس کا تصفیہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

میوزک ویڈیو کے آخری حصے میں خدا کی طرف سے شوہر کو آدمی بنائے جانے کے بعد بیوی کے ہاتھوں انسان بنائے جانے کا پیغام دیا گیا ہے۔

پہلے حصے میں شوہر کے بھٹکنے سے ہونے والے اندھیرے کا جواب دیتے ہوئے آخری حصے میں شوہر کو بھاڑ میں جھونک کر گھر میں اجالا کرنے کا عزم دکھایا گیا ہے۔

دلہن اور دلہا کی پسند نا پسند سے متعلق دونوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی کی امید کرتے ہوئے میوزک ویڈیو کے آخر میں پیغام دیا گیا ہے کہ اگر شوہر کو روٹی پسند ہو اور بیوی کو چاول تو میاں بیوی کے درمیان ایسی ہم آہنگی ہو کہ دونوں روٹی کے ساتھ چاول کھائیں۔

دلہن کی طرف سے گائی جانے والی دعا میں خاندان کی عمر رسیدہ خواتین کے چہروں پر ناراضگی جبکہ نوجوان لڑکیوں کے چہروں پر خوشی مکمل طور پر عیاں ہیں۔ جب کہ دلہن کی ماں بھی اپنی بیٹی کی دعاؤں کی تائید کرتی دیکھی جاسکتی ہے۔

میوزک ویڈیو میں مرکزی کردار نبھانے والی ماہرہ خان نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ ساری رات اور سارا دن اس گانے کی ریکارڈنگ میں مصروف رہنے کے بعد آٹھ مارچ کو عورت مارچ میں شرکت کے لیے کراچی پہنچیں۔

ماہرہ خان کی اس ٹوئٹ سے لگتا ہے کہ اس گانے کی ریکارڈنگ ویمن ڈے سے ایک دن پہلے مکمل کی گئی۔

ماضی میں 'خدا کے لیے' اور 'بول' جیسی سپر ہٹ فلمیں دینے والے شعیب منصور کی طرف سے ریلیز کردہ دعائے ریم پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔

ٹوئٹر پر ایک صارف عماد کاظمی کا کہنا ہے کہ شعیب منصور کے گانے کا ہر ایک پر اچھا اثر ہوگا۔

ان کے بقول اس کے ذریعے میاں اور بیوی کے درمیان اچھی ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ایک اور ٹوئٹر صارف شجاعت علی کا کہنا ہے کہ جب ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت تھی تو ماہرہ خان اور شعیب منصور اس خوبصورت گانے کے ساتھ سامنے آئے۔

صحافی اور فیمنستانی کے نام سے یو ٹیوب چینل چلانے والی صباحت زکریا کا ٹوئٹ ہے کہ وہ شعیب منصور اور ماہرہ خان کی مشترکہ تخلیق کی مداح بن گئی ہیں۔

طیبہ کا کہنا ہے کہ شعیب منصور اپنے مؤثر کام کی وجہ سے پہلے ہی جانے جاتے ہیں۔ اس بار انہوں نے دعائے ریم کے ذریعے ایک کامیاب شادی میں محبت، خیال رکھنے اور عزت کو پیش کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG