رسائی کے لنکس

logo-print

بلاک بسٹر ’شعلے‘ تخلیق کے 40 سال بعد پاکستان میں ریلیز


ہدایت کار رمیش سپی کی فلم شعلے 15 اگست 1975ءکو ریلیز ہوئی اور کچھ اس طرح چھائی کہ فلم سے جڑے ہر شخص کی قسمت ہی بدل گئی۔اسی فلم سے مار دھاڑ والی فلموں کی ابتداء ہوئی۔ یہی وہ پہلی فلم تھی جو ممبئی کے سنیما گھر میں مسلسل کئی سال تک دکھائی جاتی رہی۔ اسی فلم سے انڈسٹری میں نیا ٹرینڈ آیا

بالی وڈ کی تاریخ ساز فلم ’شعلے‘ اپنی تخلیق کے 40 سال بعد تھری ڈی ورژن میں پاکستان بھر کے سینما گھروں کی زینت بن گئی ہے۔کراچی کے ایٹریم سنیما میں اس کا گزشتہ روز پرئمیر شو ہوا، جس میں گلیمر ورلڈ کی متعدد سلیبریٹیز نے شرکت کی اور تھری ڈی ورژن کی تعریف کی۔

اس موقع پر ایک بیان میں فلم کے مشترکہ رائٹرز سلیم جاوید میں سے ایک یعنی جاوید اختر نے شعلے کی پاکستان میں ریلیز پر خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کیا کہ پاکستانی فلمی شائقین ’شعلے‘ کو شاندار پذیرائی اور محبت دیں گے۔

مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر ندیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ شعلے کا شمار بالی ووڈ کی بہترین فلموں میں ہوتا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس فلم کا مزہ سینما گھروں میں نہیں لیا۔ لہذا، ہم نے یہ محسوس کیا کہ اس فلم کو سینما گھروں کی زینت بنایا جائے، تاکہ شائقین ماضی کی شاہکار فلم سے محظوظ ہو سکیں۔

چالیس سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب بلاک بسٹر ’شعلے‘ کے شائقین فلم کو بڑے پردے پر انجوائے کرسکیں گے۔

ہدایت کار رمیش سپی کی فلم شعلے 15 اگست 1975ءکو ریلیز ہوئی اور کچھ اس طرح چھائی کہ فلم سے جڑے ہرشخص کی قسمت ہی بدل گئی۔اسی فلم سے مار دھاڑ والی فلموں کی ابتداء ہوئی ، یہی وہ پہلی فلم تھی جو ممبئی کے سنیما گھر میں مسلسل کئی سال تک دکھائی جاتی رہی۔ اسی فلم سے انڈسٹری میں نیا ٹرینڈ آیا۔

غالباً یہ وہ فلم ہے جس کے انگنت ڈائیلاگ لوگوں کو اب تک ازبر ہیں، بلکہ عام گفتگو میں محاورے کی طرح بولے جاتے ہیں جیسے ’کتنے آدمی تھے‘، ’تیرا کیا ہوگا کالیہ؟‘، اور ’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘۔

فلم کی کہانی سنہ 1950میں دہشت کی علامت بن جانے والے ایک ڈاکو کی زندگی سے متاثر ہوکر لکھی گئی تھی۔ ڈاکو ’گبرسنگھ‘ کے کردار کو امجد خان نے کچھ اس طرح ادا کیا کہ خود بھی امر ہوگئے اور کردار بھی۔

امیتابھ بچن، جیا بچن، دھرمیندر، ہیما مالنی اور سنجیو کمار ’شعلے‘ میں ادا کئے گئے کرداروں کی بدولت ہی شہرت کی انتہائی بلندیوں کو پہنچے۔

XS
SM
MD
LG