رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین کی خریداری کا سلسلہ یوں تو پورے رمضان کے مہینے میں جاری رہتا ہے لیکن عید کی خریداری کا اصل سماں تو چاند رات پر ہی نظر آتا ہے

عید کی آمد آمد ہے اور پاکستان کی طرح لندن میں بھی عید کی خریداری بڑے زور وشور سے کی جارہی ہےاگرچہ کچھ سمجھدار لوگ یہ کام ماہ صیام سے قبل ہی کر لیتے ہیں اور اس طرح خود کو ٹریفک جام اور بازاروں کے رش کے ساتھ ساتھ دکانداروں کی تو تو میں میں سے بھی بچا لیتے ہیں انہی لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو عید کی خریداری گھر بیٹھے بیٹھے کرتے ہیں۔

اس کے لیے وہ کسی آن لائن بوتیک یا' امیزون 'اور 'ای بے' جیسی بڑی ویب سائٹ پر جا کر بغیر مول تول کئے نسبتا سستے داموں میں اپنے پسند کا جوڑا ، سینڈل ، پرس اور میچنگ جیولری تک خرید لیتے ہیں۔
لندن کی مشہور ایشین شاپنگ اسٹریٹ (گرین اسٹریٹ) پریوں تو سارا سال ہی انڈین، پاکستانی خریداروں کا ہجوم نظر آتا ہے لیکن عید کے دنوں میں یہاں بہت زیادہ رش دکھائی دیتا ہے ۔

ایک پاکستانی ملبوسات کی دکان کے مالک سہیل نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ، خواتین کی خریداری کا سلسلہ یوں تو پورے رمضان کے مہینے میں جاری رہتا ہے لیکن عید کی خریداری کا اصل سماں تو چاند رات پر ہی نظر آتا ہے۔
’’جہاں تک بوتیک کے ملبوسات کی قیمت کی بات ہے تو اس وقت ہمیں اپنے خریداروں کو خوش کر کے بھیجنا ہوتا ہے تو مول تول کر لیا جاتا ہے‘‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ، اب اس بزنس میں پہلے جیسی بات نہیں رہی ہے لوگوں کی قوت خرید کمزور پڑ گئی ہے ایسے میں خواتین ایک جوڑے سے زیادہ نہیں خرید پاتی ہیں ۔
دیار غیر میں رہنے والی خواتین میں گھریلو بوتیک سے خریداری کرنےکا رواج بڑا پرانا ہے اور خاص طور پر نئے فیشن کے ڈیزائنر ڈریس کی قیمت جب پاؤنڈ میں وصول کی جاتی ہے تو یوں سمجھیے کہ ، ایک سوٹ کی قیمت میں گھر کی مہینے بھر کی اشیائے ضرورت خریدی جا سکتی ہیں۔ ایسے میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین سستی شاپنگ کرنے کے لیے گھروں میں چلائی جانے والی بوتیک پر بھروسہ کرتی ہیں جہاں انھیں ہائی روڈ کی بوتیک سےنسبتا کم قیمت میں اچھا سوٹ مل جاتا ہے ۔
لندن کے رہائشی وہاب بٹ اور آمنہ رضا گھر سے پاکستانی ملبوسات فروخت کرتے ہیں ۔دونوں میاں بیوی کافی عرصے سےاس کام کو جز وقتی کارروبار کے طور پربڑے منظم اندازمیں چلا رہے ہیں ۔

وہاب نے عید کی شاپنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ، اس عید پرانھیں ہمیشہ سے کہیں زیادہ آرڈر ملے ہیں اور یہ سلسلہ پورا رمضان جاری رہا اور کئی بار توانھیں آوٹ آف اسٹاک بھی ہونا پڑا ۔
وہاب کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ پاکستانی ملبوسات کی تراش خراش ، ڈیزائن اور فیشن سے اچھی واقفیت رکھتی ہیں لہذا ان کا کلیکشن کم قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ میعاری بھی ہوتی ہے ۔

’’مارکیٹنگ کی ذمہ داری میں خود سنبھالتا ہوں اور اس سلسلے میں ویب سائٹ پر ہمارا اشتہار موجود ہے کسٹمرہمارے فون نمبر پر یا آن لائن جا کر بھی ہمیں اپنا آرڈر دے سکتا ہےجبکہ لندن کے لیے مفت ڈلیوری سروس موجود ہے۔‘‘‘
کیا صرف سستی شاپنگ کے خواہشمند افراد ہی گھروں کی بوتیک سے ملبوسات خریدتے ہیں ؟
’’یہ بات سچ ہے کہ ، ہمارے ملبوسات کی قیمت بازار کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے اور لوگ سستی خریداری کے مقصد سے بھی ہم سے رابطہ کرتے ہیں لیکن اگر کلیکشن اچھا اور فیشن کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو تو لوگ کم قیمت پر بھی خریداری نہیں کرتے ہیں ایسے میں اگر آپ کی ساکھ اچھی ہے تو ہی آپ مستقل کسٹمر بنا سکتے ہیں جنہیں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں کم قیمت میں بازار جیسا یا اس سے بھی بہترجوڑا گھرکی بوتیک سے مل سکتا ہے۔ لندن میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد آباد ہے لہذا ہمارے پاس عام دنوں میں بھی لوگوں کی خصوصی تقریبات اور شادی بیاہ کے حوالے سے اسپیشل ملبوسات تیار کرائے جاتے ہیں۔‘‘
وہاب کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ،ہمارے مقابلے میں بازار کی بوتیک کےاخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک عام سا جوڑا بھی بوتیک میں مہنگا فروخت کیا جاتا ہے لیکن ہماری نظر منافع سے زیادہ تعداد پر ہوتی ہے ۔
برطانوی نژاد پاکستانی خواتین میں عید کے حوالے سے کونسے ملبوسات زیادہ مقبول ہیں ؟
’’پاکستانی فیشن ایبل ملبوسات میں لڑکیوں میں گاؤن بہت پسند کیا جا رہا ہے جبکہ لمبی قمیض یا انا رکلی کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ کی بھی ڈیمانڈ ہے اس کے علاوہ یہاں عبایا بھی بہت مقبول ہے زیادہ ترلڑکیاں لمبی آستین والی شرٹ پسند کرتی ہیں جس کے ساتھ میچنگ اسکارف اور بروچز پسند کیئے جا تے ہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG