رسائی کے لنکس

logo-print

جوڈیشل کونسل سے نوٹس ملنے کے بعد فائز عیسیٰ کا وکلا سے رابطہ


سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر حکومتی ریفرنسز میں اُن پر بیرون ملک جائیداد رکھنے کا الزام ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دو شو کاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جس پر انہوں نے قانونی مشاورت کے لیے مختلف وکلا سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کو جاری کیے گئے نوٹسز میں سے ایک بیرون ملک جائیداد رکھنے جبکہ دوسرا نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو خطوط لکھنے سے متعلق ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کو بھی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق حکومتی ریفرنس پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے پیش ہونے کے لیے دو وکلا حامد خان اور منیر اے ملک کے نام سامنے آئے ہیں۔ حامد خان نے بھی تصدیق کی ہے کہ اُن کا رابطہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ہوا ہے۔

حکومت کے ریفرنسز کے خلاف 27 جولائی کو اسلام آباد میں وکلا کنونشن بھی بلالیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 23 جون کو لاہور کے ایک وکیل وحید شہزاد بٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف درخواست دی تھی کہ انہوں نے صدر پاکستان کو خط لکھ کر میڈیا کے ساتھ اس کا اشتراک کر کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے اُن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق شوکاز نوٹس پر 14 دن کے اندر جواب دینا لازمی ہوتا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے دونوں ججوں کو شو کاز نوٹس 16 جولائی کو جاری کیے گئے تھے اس بارے میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کہتے ہیں کہ وکلا کا ملک گیر کنونشن 27 جولائی کو اسلام آباد میں بلا لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ " ہم آج بھی ان ریفرنسز کو بوگس سمجھتے ہیں اور ہم ان ریفرنسز کے خلاف بھرپور اجتجاج کریں گے، اب تک سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی لیکن اب جب قاضی فائز عیسیٰ کو دو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں تو لگ رہا ہے کہ ان ریفرنسز کو قابل سماعت قرار دیدیا گیا ہے اور کارروائی شروع ہوگئی ہے۔"۔

امجد شاہ کے بقول پشاور کے بعد اب 27 جولائی کو اسلام آباد میں وکلا کا ملک گیر کنونشن ہوگا جس میں اس سلسلے میں حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی قانونی مشاورت

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قانونی مشاورت کے لیے جن دو وکلا سے قانونی مشاورت کی ہے ان میں سے ایک سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان ہیں ۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے حامد خان نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ سے رابطہ ہوا ہے لیکن اس حوالے سے حتمی بات کچھ دن کے بعد کی جاسکے گی۔

حامد خان نے جسٹس قاضی فائز کے دوسرے وکیل کے لیے منیر اے ملک کے نام سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ان کا رابطہ منیر اے ملک سے بھی ہوا ہے لیکن وہ اس وقت امریکہ میں موجود ہیں۔ امکان ہے کہ وہ جلد وطن واپس آئیں گے اور اس کیس میں معاونت کریں گے۔

حامد خان کے بقول "جسٹس فائز عیسیٰ کے ریفرنسز سے متعلق دستاویزات آئندہ ایک دو روز میں موصول ہوں گی، ان ریفرنسز کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا جسٹس قاضی فائز عیسی کا حق ہے۔"

حامد خان نے اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس ریفرنس کا قابل سماعت ہونا یا نہ ہونا اب بھی ایک سوال ہے لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے دونوں جج صاحبان سے 14 دن میں جواب طلب کیا ہے، اس سے قبل اٹارنی جنرل سے جسٹس فائز عیسیٰ کے جواب پر جواب الجواب طلب کیا گیا تھا جو انہوں نے جمع کرا دیا ہے۔

دونوں ریفرنسز کے حوالے سے حکومت کا مؤقف ہے کہ دونوں جج صاحبان کے خلاف ریفرنس اثاثہ جات ریکوری یونٹ اور ایف بی آر کی تحقیقات کے بعد بھجوایا گیا ہے، حکومت کو سپریم جوڈیشل کونسل پر مکمل اعتماد ہے اور یقین ہے کہ ان ریفرنسز میں انصاف کے اصولوں کے مطابق کارروائی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG