رسائی کے لنکس

logo-print

حملے کا ’بین الاقوامی دہشتگردی‘ سے کوئی تعلق نہیں: تھائی لینڈ


اس سے قبل پولیس چیف نے کہا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ سازی میں کم از کم 10 افراد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ خیال ہے کہ اس گروہ نے ایک ماہ پہلے سے بمباری کی منصوبہ بندی کی ہو گی۔

تھائی لینڈ میں حکام نے کہا ہے کہ بنکاک میں رواں ہفتے ہونے والے مہلک بم حملے کی منصوبہ سازی میں کم از کم 10 افراد شریک تھے، جس میں غیر ملکی بھی شامل تھے مگر خیال ہے کہ اس میں کوئی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ملوث نہیں۔

اقتدار پر قابض فوج کے ترجمان ونتھائی سوواری نے ٹیلی وژن پر ایک بیان میں کہا کہ ’’اس واقعہ کا عالمی دہشتگردی سے منسلک ہونے کا امکان نہیں۔‘‘ حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہو گئے تھے۔

انہوں نے پیر کی شام ایراوان مندر پر ہونے والے حملوں کے بارے یہ بھی کہا کہ ’’چینی شہری اس حملے کا براہ راست ہدف نہیں تھے۔‘‘ یہ مندر چینی اور دیگر غیرملکی سیاحوں میں بہت مقبول تھا۔

اس سے قبل قومی پولیس چیف سومیوٹ پومپان مونگ نے کہا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ سازی میں کم از کم 10 افراد شامل تھے۔ انہوں نے بھی خیال ظاہر کیا تھا کہ اس گروہ نے ایک ماہ پہلے سے بمباری کی منصوبہ بندی کی ہو گی۔

حکومت نے بدھ کو مشتبہ بمبار کا خاکہ اور گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔حکام نے اس کی گرفتاری میں معاون ثابت ہونے والی کسی بھی معلومات کے لیے 28,000 ڈالر انعامی رقم کا اعلان بھی کیا۔

دھماکے کی تحقیقات کرنے والوں نے اس حملے سے کچھ دیر قبل سکیورٹی کیمرے سے بنائی گئی وڈیو کا جائزہ لینے کے بعد ایک شخص پر شبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر بمبار ہو سکتا ہے۔

وڈیو میں سیاہ بالوں والا ایک دبلا پتلا نوجوان جس نے پیلی شرٹ پہن رکھی تھی، بنچ کے نیچے ایک بیگ رکھ کر وہاں سے روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG