رسائی کے لنکس

نینڈرتھل گھومنے پھرنے کے شوقین تھے


Neanderthal

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانوں کے قریبی رشتے دار نینڈرتھل گھومنے پھرنے کے شوقین تھے۔ آج سے ساٹھ ہزار سال پہلے وہ مشرقی یورپ سے چلے اور چار ہزار کلومیٹر دور شمالی سائبیریا جا پہنچے۔ اس کے شواہد وہاں ان کی بنائی ہوئی اشیا سے ملے ہیں۔ البتہ، یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ اس سفر میں کتنی نسلیں گزریں اور کتنا عرصہ لگا۔

جن مقامات پر نینڈرتھل کی موجودگی کا علم ہوا ہے، وہ بحر اسود کے شمالی علاقے، کرائمیا اور جنوبی سائبیریا میں ہیں۔ وہاں سے پتھر کے بنائے ہوئے اوزار ملے ہیں جنھیں 49 ہزار سے 59 ہزار سال پہلے بنایا گیا۔ اس تحقیق کی تفصیلات 27 جنوری کو امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نینڈرتھل گھاس کے میدانوں اور پہاڑیوں میں جنگلی گھوڑوں اور بھینسوں کا شکار کرتے تھے۔ ان کے کچھ قبیلوں نے خشک اور سرد موسم کی وجہ سے مشرق کی طرف نقل مکانی کی اور یورپ سے ایشیا پہنچے۔ کچھ نینڈرتھل ایک لاکھ سال پہلے سائبیریا پہنچ چکے تھے۔ لیکن، ان کے 40 ہزار سال بعد پہنچنے والے کچھ مختلف تھے۔ اس کا ثبوت ان کے بنائے ہوئے اوزاروں کی مختلف صورت سے ملا ہے۔

سائیبریا کے ایک غار میں کھدائی سے نینڈرتھل کے 74 فوسلز اور پتھر کے 90 ہزار اوزار ملے۔ ماہرین نے ان اوزاروں کا یورپ میں ملنے والے پتھریلے اوزاروں سے موازنہ کیا جس سے انھیں اہم معلومات ملیں۔

تحقیق کرنے والے سمجھتے ہیں کہ نینڈرتھل کے قبیلے ایک نسل کی عمر میں 100 کلومیٹر مشرق کی طرف نقل مکانی کرتے ہوں گے۔ اس طرح انھیں مشرقی یورپ سے جنوبی سائبیریا پہنچنے میں چھ سات سو سال لگے ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG