رسائی کے لنکس

مودی کا دورۂ امریکہ کامیاب تھا یا ناکام؟ بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی


بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں اپنا دورۂ امریکہ مکمل کیا ہے جس کے بعد بھارت کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا یہ دورۂ اتنا ہی کامیاب تھا جتنا ٹرمپ دور میں قرار دیا جا رہا تھا یا بھارت، امریکہ تعلقات میں اب کوئی تبدیلی آئی ہے۔

نئی دہلی کے تجزیہ کار اس معاملے پر ملا جلا ردِ عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ کامیاب دورہ تھا اور اس سے بھارت اور امریکہ مزید قریب آئے ہیں جب کہ بعض دیگر تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ دورہ پہلے کی نسبت ناکام ثابت ہوا ہے۔

بھارتی میڈیا اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اسے ایک انتہائی کامیاب دورہ قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی الگ الگ رائے

لیکن تجزیہ کاروں کی اکثریت مودی کے دورے کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں منقسم ہے۔

سینئر تجزیہ کار شیخ منظور احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بنگلہ دیش کے دورے کو چھوڑ دیں تو دو برس کے بعد وزیرِ اعظم مودی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ اس لیے اس کی بہت اہمیت تھی۔ خطے میں تبدیلی کے تناظر میں بھی اس کی اہمیت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ دورے میں انہوں نے 20 ملاقاتیں کیں جن میں امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کے علاوہ جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم اور بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

'کواڈ غیر اہم ہو گیا ہے'

شیخ منظور احمد کے خیال میں کواڈ اجلاس پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ لیکن امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پر مبنی ’آکوس‘ نامی گروپ کی تشکیل کے بعد کواڈ کی اہمیت کچھ کم ہو گئی ہے۔

اُن کے بقول کواڈ جس مقصد کے لیے بنا تھا یعنی ہند بحر الکاہل خطے میں چین کے اثرات کو روکنے کے لیے اسی مقصد کے تحت یہ گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بائیڈن مودی ملاقات میں افغانستان کی صورتِ حال پر گفتگو ہوئی لیکن افغانستان کے بارے میں امریکہ اور بھارت کی تشویش الگ الگ ہے۔ البتہ دونوں نے امن و سلامتی کے قیام پر زور دیا ہے۔

شیخ منظور احمد کہتے ہیں کہ بھارت کے لیے افغانستان کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ وہ اس خطے میں ہے اور اس کو سلامتی کے خدشات لاحق ہیں۔

انہوں نے جو بائیڈن اور کاملا ہیرس سے مودی کی ملاقاتوں کے سلسلے میں کہا کہ ان میں کئی امور پر تبادلۂ خیال ہوا لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ چین، افغانستان اور جنوبی ایشیا کے سلسلے میں بھارت کو جو تشویش ہے اس پر ان میں اتفاق رائے ہے یا نہیں۔

جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کا معاملہ

شیخ منظور احمد کے مطابق بائیڈن نے مودی سے ملاقات کے موقع پر گاندھی کے اصولوں اور ہیرس نے جمہوریت کی مضبوطی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کی۔ دراصل ڈیمو کریٹس ان باتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

اُن کے بقول اس سے قبل جب براک اوباما بھارت کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے بھی جمہوریت، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی پر زور دیا تھا۔

ان کے مطابق اس سے قبل بھی کاملا ہیرس بھارت میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کرتی رہی ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکی رہنماوں کا مقصد اس معاملے پر بھارت تک اپنا پیغام پہنچانا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے ان باتوں کو مثبت انداز میں لیا۔

خیال رہے کہ قبل ازیں کاملا ہیرس نے شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) اور بھارتی زیر انتظام کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے پر اپنے تحفظات اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے آئین کے اندر رہ کر دفعہ 370 کو منسوخ کیا تھا۔ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی بھی تردید کرتی رہی ہے۔

تجارتی نکتۂ نظر سے دورہ کامیاب تھا؟

شیخ منظور احمد کہتے ہیں کہ مودی نے امریکی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا اور کئی کمپنیوں کے سربراہوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تجارتی نکتۂ نظر سے مودی کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا۔ بھارت امریکہ کا اسٹرٹیجک شراکت دار ہے اور دونوں کی باہمی تجارت 100 بلین ڈالر سے اوپر ہے۔ دونوں نے باہمی تجارت کو 500 بلین ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ باہمی تجارت میں تیزی سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق تاہم بعض معاملات مثلاً ویزا پالیسی سے متعلق دونوں میں اختلافات ہیں۔

ان کے خیال میں مودی نے اس دورے سے کچھ حاصل تو کیا ہے لیکن جیسا کہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ دورہ تاریخی ثابت ہو گا ویسا نہیں ہوا۔

'دورے میں کوئی گرمجوشی نہیں تھی'

سینئر تجزیہ کار حسن کمال نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں کوئی گرمجوشی نظر نہیں آئی۔ ممکن ہے اس کی وجہ کرونا وبا ہو یا کوئی اور وجہ کیوں کہ بائیڈن اور ٹرمپ کی شخصیت میں بہت فرق ہے۔

انہوں نے اس سے اتفاق کیا کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پر مبنی نئے گروپ ’آکوس‘ کی تشکیل کے بعد امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل گروپ ’کواڈ‘ غیر اہم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ان کے خیال میں جو خبریں سامنے آئی ہیں ان سے لگتا ہے کہ کواڈ اجلاس میں چین کے مسئلے پر یا تو گفتگو نہیں ہوئی یا پھر اس طرح نہیں ہوئی جیسی بھارت چاہتا تھا۔

تجزیہ کار آلوک موہن کہتے ہیں کہ اس دورے کو نہ تو بہت کامیاب کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی بہت ناکام۔ مودی اور بائیڈن نے مذاکرات کے دوران تجارتی اور اقتصادی تعلقات اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔

ان کے مطابق مودی کی بائیڈن سے ملاقات ’ہاؤڈی مودی‘ پروگرام میں مودی کی جانب سے ٹرمپ کے لیے انتخابی تشہیر کے تناظر میں قابلِ غور تھی۔ لیکن بائیڈن کی باڈی لینگوئج سے ایسا نہیں لگا کہ انہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا تھا اور اگر لیا تھا تو انہوں نے اس کا اظہار نہیں کیا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ یہ دوطرفہ دورہ نہیں تھا اس لیے اس کو اس طرح نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ یہ کتنا کامیاب رہا اور کتنا ناکام۔ اسے ٹرمپ انتظامیہ میں مودی اور ٹرمپ کی دوستی کے تناظر میں بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ مودی کی دوستی تو بائیڈن سے بھی ہے۔

بھارتی میڈیا میں دورے کی کوریج

آلوک موہن کے خیال میں مودی کے اس دورے کو بھارتی میڈیا میں ایک تاریخی دورے کے طور پر پیش کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی میڈیا میں ان کا بس سرسری سا ذکر ہوا تھا۔

خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے مودی کے دورے کو تاریخی قرار دیا ہے اور انہیں ایک مقبول عالمی رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ پر ایک ایسی تصویر بھی وائرل ہے جس میں نریندر مودی امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے ساتھ ہیں۔ وہ کچھ لکھ رہے ہیں اور تصویر کے اوپر عنوان لگایا گیا ہے ’روئے زمین پر آخری امید‘۔

اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک ٹوئٹ میں اسے ایک فرضی تصویر قرار دیا ہے اور ایک لنک دے کر وضاحت کی ہے کہ وزیرِ اعظم مودی پر ہماری حقیقی رپورٹنگ یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر بھی وائرل ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ تختیاں لے کر جن پر مودی کے امریکہ میں خیر مقدم کے نعرے لکھے ہوئے ہیں، ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق یہ ایک پرانی تصویر ہے۔

بی جے پی کے نزدیک دورہ انتہائی کامیاب

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔ اس نے مودی کی واپسی پر نئی دہلی ایئرپورٹ کے سامنے ایک خیر مقدمی پروگرام کیا جس میں اسٹیج پر ’عالمی مقبول رہنما‘ کا بینر لگایا گیا تھا۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا کہ مودی کے امریکی دورے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا مودی کی قیادت میں بھارت کو دوسری نظر سے دیکھ رہی ہے۔

ان کے بقول مودی نے دہشت گردی، تبدیلی آب و ہوا اور دیگر ایشوز پر تبادلۂ خیال کر کے بھارت کو ایک عالمی پلیئر بنا دیا ہے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG