رسائی کے لنکس

کراچی کے گردوارے عدم توجہی کا شکار

کراچی کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد گردوارہ ہے, جبکہ دیگر دو گردوارے ہندو برادری کے مندروں کے احاطے میں قائم ہیں

پاکستان میں جہاں دیگر اقلیتی برادریاں بستی ہیں، وہیں سکھ برادری بھی ہے جو پاکستان کے مختلف حصوں سمیت کراچی میں بھی سکھ اقلیتی برادری کے متعدد خاندان رہائش پذیر ہیں۔

کراچی میں جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں سکھ برادری کے خاندانوں میں بھی وسعت آتی جا رہی ہے۔ مگر، پاکستان کے اہم شہر ہونے کے باوجود، کراچی میں سکھوں کی عبادت گاہیں کم، یعنی صرف تین ہیں، جہاں سکھ برادری کے افراد اپنی مذہبی عبادات کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں۔

کراچی کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد گردوارہ ہے جبکہ لائٹ ہاوس کےعلاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں بنا ہوا ایک چھوٹا سا حصہ 'گردوارے' کے طور پر بنایا گیا ہے؛ جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں قائم اسی طرز کا ایک اور گردوارہ ہندو برادری کے مندر کے احاطے میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ برادری بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتی ہے۔

برصغیر دور میں جہاں دیگر زمینیں حکومتی زمرے میں آگئیں وہیں سکھوں کے کئی گردوارے بھی حکومت سندھ کی ملکیت ہیں۔

ایسا ہی ایک گردوارہ کراچی کے علاقے 'رتن تلاو' میں ہے جہاں 1995سال میں گردوارے کے پاس نبی باغ گورنمنٹ کالج قائم ہوگیا ہے، جبکہ گردوارے کی جگہ اس کالج کے پیچھے آج بھی موجود ہے جو اب کسی کھنڈر سے کم نہیں۔

پاکستان سکھ کونسل کے جنرل سیکرٹری، سردار رائے نے 'وائس آف امریکہ'سے گفتگو میں بتایا کہ برصغیر دور کے بعد اس گردوارے کا آدھا حصہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس آگیا، اور یوں، یہ گردوارہ فعال نہیں رہا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسکی زمین اب حکومتی ملکیت ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ سکھ اقلیت کی جانب سے حکومت سندھ کو کئی خطوط بھی لکھَےگئے مگر کوئی مداوا نہ ہو سکا۔ سکھوں کا مطالبہ ہے کہ کالج کو اپنی جگہ رہنے دیا جائے، جبکہ گردوارے کے کھنڈر زدہ زمین کو دوبارہ سے فعال کرنے کی اجازت دیدیجائے۔

پاکستان سکھ کونسل کے سربراہ، سردار رمیش سنگھ نے بتایا ہے کہ کراچی بھر میں لگ بھگ 5 ہزار سکھ رہائش پذیر ہیں، جن کیلئے یہ صرف تین گردوارے بہت کم ہیں، جس کے باعث اکثر سکھ گھروں میں عبادت کرنے پر مجبور ہیں یا پھر صرف چھٹی والےدن ہی گردوارے آتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کئی برس گزر جانے کے باوجود، رتن تلاو گردوارہ فعال نہیں کیا جا سکا، جسکے لئے سکھ برادری جدوجہد کر رہی ہے۔

سکھ برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ شہرکے مرکزی علاقے صدر کے قریب ہونےکے باعث رتن تلاو کے گردوارے کو فعال بنایا جانا چاہئے۔

کراچی کے گردوارے

عبادت کے دوران سکھ مذہبی رہنما سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب پڑھ کر سنارہے ہیں
1/9 عبادت کے دوران سکھ مذہبی رہنما سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب پڑھ کر سنارہے ہیں
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
سکھ سنگت گردوارے میں عبادت کے لیے آنے والی سکھ خاتون
2/9 سکھ سنگت گردوارے میں عبادت کے لیے آنے والی سکھ خاتون
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
رتن تلاو گردوارے کی زمین اب 'سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ' کی ملکیت ہے جس پر گورنمنٹ کالج قائم ہے۔ کالج کے پیچھے گردوارے کی کھنڈر نما عمارت اب بھی قائم ہے
3/9 رتن تلاو گردوارے کی زمین اب 'سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ' کی ملکیت ہے جس پر گورنمنٹ کالج قائم ہے۔ کالج کے پیچھے گردوارے کی کھنڈر نما عمارت اب بھی قائم ہے
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
کراچی میں سکھوں کے کل تین گردوارے فعال ہیں جہاں سکھ افراد عبادت کیلئے آتے ہیں
4/9 کراچی میں سکھوں کے کل تین گردوارے فعال ہیں جہاں سکھ افراد عبادت کیلئے آتے ہیں
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
گردوارے میں سکھوں کی مذہبی کتابیں رکھی ہیں
5/9 گردوارے میں سکھوں کی مذہبی کتابیں رکھی ہیں
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
سکھ برادری کے مرد افراد احتراما سر پر کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لپیٹ لیتے ہیں
6/9 سکھ برادری کے مرد افراد احتراما سر پر کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لپیٹ لیتے ہیں
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
کراچی کا رتن تلاو گردوارہ جس کی زمین حکومتی سرپرستی میں آنے کے بعد کھنڈر کی صورت اختیار کرگئی ہے
7/9 کراچی کا رتن تلاو گردوارہ جس کی زمین حکومتی سرپرستی میں آنے کے بعد کھنڈر کی صورت اختیار کرگئی ہے
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
عبادت کے اختتام کے بعد ایک سکھ پرساد لیتے ہوئے
8/9 عبادت کے اختتام کے بعد ایک سکھ پرساد لیتے ہوئے
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
سکھ برادری کا کہنا ہے کہ شہرکے مرکزی علاقے صدر کے قریب ہونے کے باعث رتن تلاو گردوارے کو بحال کیا جانا چاہئے
9/9 سکھ برادری کا کہنا ہے کہ شہرکے مرکزی علاقے صدر کے قریب ہونے کے باعث رتن تلاو گردوارے کو بحال کیا جانا چاہئے
کراچی میں اس وقت سکھوں کے صرف تین گردوارے فعال ہیں۔ شہر کے پرانے علاقے رنچھوڑلائن میں قائم 'سکھ سنگت گردوارہ' شہر کا واحد باقاعدی گردوارہ ہے۔ لائٹ ہاوس کے علاقے میں 'شری سوامی نارائن مندر' کے احاطے میں ایک چھوٹا حصہ 'گردوارے' کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ منوڑہ کے علاقے میں 'شیو ورون دیو مندر' میں بھی اسی طرز کا ایک اور گردوارہ قائم ہے جہاں ہندوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی اپنی عبادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ (تحریر و تصاویر: شائستہ جلیل)
Previous slide
Next slide
This item is part of
XS
SM
MD
LG